سلسلہ احمدیہ — Page 261
261 کی گئی۔اس صورتِ حال کا ایک لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی ترقی بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ بجٹ کا بڑا حصہ تو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے (۵)۔اور جو قرضے لئے گئے تھے وہ بھی صحیح طور پر استعمال نہیں کئے گئے۔اور پھر ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑے۔جس کے نتیجے میں بوجھ بڑھتا ہی گیا۔اور جیسا کہ حضور نے انتباہ فرمایا تھا ، اس کے نتیجے میں ملک کی حقیقی آزادی بھی گروی رکھنی پڑی۔جب ایک مقروض حکومت اپنی پالیسی بنانے کے لئے بیٹھتی ہے تو اسے ان ممالک اور عالمی اداروں کی ہدایات کی پیروی کرنی پڑتی ہے جن کے دیئے گئے قرضوں کے تل ملکی معیشت کی کمر دوہری ہو رہی ہے۔پاکستان میں اسلامی آئین: پاکستان کی آزادی کے بعد جب آئین سازی کا سوال اٹھا تو خاص طور پر مذہبی جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ زور سے پیش کیا گیا کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ، اس لئے یہاں پر ایک اسلامی آئین نافذ ہونا چاہئیے۔یہ جماعتیں انتخابات میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھیں اور انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت بھی کی تھی۔ان وجوہات پر انہیں عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔بہر حال ۱۹۴۷ء کے آخر تک یہ سوال ایک اہمیت اختیار کر چکا تھا اور بہت سے ذہنوں میں اس بابت سوال اُٹھ رہے تھے۔حضور نے دسمبر ۱۹۴۷ء میں ایک مجلس عرفان میں اس سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ، اسلامی احکام یہ ہیں کہ ہر قوم کو اپنے مذہب کی ہدایات پر چلنے کی اجازت ہے۔قرآن مجید میں صاف طور آتا ہے کہ مذہب سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق اہلِ انجیل کو انجیل کی تعلیم کے مطابق اور اہلِ تو رات کو تو رات کی تعلیم کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔یہ اصول تمام دیگر مذاہب کے متعلق چسپاں ہو گا۔پس جہاں تک اپنے اپنے مذہب کے طریق پر چلنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا سوال ہے۔اسلام کسی مذہب میں بھی دخل اندازی نہیں کرتا۔اس کا تو صاف حکم ہے کہ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ