سلسلہ احمدیہ — Page 195
195 66 پس ہمارے دل غمگین نہ ہوں تم پر افسردگی طاری نہ ہو کہ یہ کام کا وقت ہے اور کام کے وقت میں افسردگی اچھی نہیں ہوتی۔بلکہ کام کے وقت میں ہم میں نئی زندگی اور نئی روح پیدا ہو جانی چاہئیے۔۔ہمارے بوڑھے جوان ہو جانے چاہئیں اور ہمارے جوان پہلے سے بہت زیادہ طاقتور ہو جانے چاہئیں۔ہم مذہبی لوگ ہیں۔حکومتوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ہمارا کام دلوں کو فتح کرنا ہے نہ کہ زمینوں کو۔“ مغربی پنجاب کے احباب کثرت سے جلسہ سالانہ لاہور میں شامل ہوئے۔اکثر احباب نے اپنے خوردونوش اور قیام کا انتظام خود کیا تھا۔اس طرح پاکستان کی زمین پر با وجود تمام نا مساعد حالات کے جلسہ سالانہ کی اہم روایت کا آغاز ہوا۔(۷۔۸) قیام لاہور کے پر آشوب دور سے گذرتے ہوئے جب ہم ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ اگر چہ اس وقت ہر قسم کے ابتلاؤں کا سامنا تھا۔مالی وسائل کی شدید کمی تھی۔اس وقت کیفیت یہ تھی کہ رتن باغ کی نچلی منزل کے ہال میں حضور ایک چٹائی کے اوپر تشریف فرما ہوتے اور یہاں ڈاک ملاحظہ فرماتے ، وہیں پر احباب ملاقات کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو یہیں پر نماز ادا کر لی جاتی۔تجربہ کار کارکنان کی بھاری اکثریت قادیان میں محصور تھی۔جو ہجرت کر کے آچکے تھے، انہیں پیٹ بھر کے روٹی بھی میسر نہیں تھی۔اگر کسی کو سر چھپانے کو فقط چھت ہی مل جائے تو یہ بھی غنیمت تھا۔قریب ہی احمدی پناہ گزینوں کے خیمے نصب تھے۔ایک مرتبہ جمعداروں نے ہڑتال کر دی۔اگر صفائی نہ ہوتی تو وبا پھوٹنے کا اندیشہ تھا۔چنانچہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ خدام نجاست صاف کریں۔اس ارشاد کی تعمیل میں باقی خدام کے ساتھ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بھی صفائی کر رہے تھے کہ ایک راہ چلتی بڑھیا نے پنجابی میں کہا کہ لڑکے تم تو کسی بہت اچھے خاندان کے لگتے ہو تم پر کیا بیتا پڑی ہے جو یہ کام کر رہے ہو (۱۳)۔ان مشکلات کے علاوہ دل صدمات سے نڈھال تھے۔قادیان پر منڈلانے والے خطرات ہر وقت ہر احمدی کو بے چین کر رہے تھے اور وہاں پر محصورین کا انخلاء ایک صبر آزما جد و جہد کا تقاضہ کرتا تھا۔لیکن ان مشکلات کے باوجود حضرت مصلح موعودؓ کی اولوالعزم قیادت میں ایک دن کے اندر اندر لاہور میں نظام جماعت جاری کر دیا گیا۔ہجرت کرنے والے بے سروسامان احمدیوں کی مدد