سلسلہ احمدیہ — Page 132
132 بات کے قائل نہیں تھے کہ ایک انسان دوسرے انسان کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔(۱۳) ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بس میں ہو تو ایسی تبلیغ کے خلاف قانون سازی کر دیں جس کا مقصد لوگوں کا مذہب تبدیل کرنا ہو۔ان دنوں میں عیسائی مشنریوں نے بڑے پیمانے پر اچھوت اقوام میں تبلیغ کا کام شروع کیا تھا۔گاندھی جی اس مہم کے سخت مخالف تھے۔ان کا موقف تھا کہ یہ لوگ پسماندگی اور تعلیم کی کمی کے باعث مذہبی معاملات میں ایک گائے سے زیادہ فہم نہیں رکھتے۔لہذان کو تبلیغ کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ اپنا مذہب تبدیل کرنے کا صحیح فیصلہ کرسکیں۔(۱۳) دوسری طرف جماعت احمدیہ کا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی آزادی ہونی چاہئیے۔ہر شخص اگر چاہے تو اپنا مذہب تبدیل کر سکتا ہے۔اگر ایک شخص کم علم ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں۔وہ اس بارے میں جو فیصلہ کر رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔سٹیٹ کو، قانون کو یا کسی سیاسی پارٹی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس پر کوئی پاپندی لگائے۔اسی طرح جماعت کی طرف سے پیرا کبر علی صاحب نے مسلم لیگ کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور ناظر صاحب امور خارجہ بھی پنجاب مسلم لیگ کے صدر سے ملے۔پنجاب مسلم لیگ کا ایک طبقہ جماعت کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر تیار نہیں تھا۔ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو اپنی پارٹی کے قانون میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان پر مسلم لیگ کی رکنیت کے دروازے بند کرنا چاہتے تھے۔پنجاب مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر بعض علماء اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ جب تک انگریز اور ہندوؤں کی سیاست کا سامنا ہے اس کے مقابلے کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح بہترین رہنما اور ترجمان ہیں۔جب پاکستان قائم ہو جائے گا اس وقت علماء کے مشورے سے طر ز حکومت قائم کی جائے گی۔اور علماء کہلانے والے اس گروہ کے جماعت احمدیہ کے متعلق کیا عزائم تھے؟ اس سوال کا جواب بالکل واضح تھا۔(۱۴) دوسری طرف مرکزی مسلم لیگ کا رویہ اس کے بالکل برعکس تھا۔وہ احمد یوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے تھے۔بلکہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب مسلم لیگ کے صدر بھی رہ چکے تھے۔جماعت احمدیہ مسلم لیگ کی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر