سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 71

صاف اور پختہ طریق فیصلہ تھا مگر کوئی شخص آپ کے مقابلہ پر نہ آیا اور اس چیلنج نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کی شان کو دوبالا کر دیا۔دوسری طرف جو پیشگوئی پنڈت لیکھرام نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کے بارے میں کی تھی وہ بالکل نا کام اور غلط ثابت ہوئی۔اس جگہ یہ ذکر بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ پنڈت لیکھرام کی موت کے بعد جبکہ آریہ قوم میں بہت جوش پیدا ہوا تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود کے پاس کئی گمنام خطوط ایسے آئے جن میں آپ کو قتل کی دھمکی دی گئی تھی مگر جس کو خدا بچانا چاہے اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔پنڈت لیکھرام کے تعلق میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے جس سے حضرت مسیح موعود کی مذہبی غیرت کا دلچسپ ثبوت ملتا ہے وہ یہ کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود نے پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی فرمائی تو ایک دفعہ جب آپ ایک سفر کے دوران میں لا ہور ریلوے اسٹیشن پر تھے تو پنڈت لیکھر ام آپ کا علم پا کر آپ کی ملاقات کے لئے آئے اور قریب آ کر سلام کیا۔مگر حضرت مسیح موعود نے اس سلام کا جواب نہیں دیا۔جس پر پنڈت لیکھرام نے خیال کیا کہ شاید آپ نے سنا نہیں اس لئے پنڈت لیکھرام نے دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کہا مگر آپ پھر بھی خاموش رہے جس پر بعض حاضرین مجلس نے آپ کو توجہ دلانے کے لئے عرض کیا کہ حضور! پنڈت لیکھر ام سلام کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا ”ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کہتا ہے؟“ اس سے اس بے نظیر محبت اور بے نظیر غیرت کا ثبوت ملتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے متعلق آپ کے دل میں تھی مگر اس واقعہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ آپ کسی مخالف اسلام کے ساتھ ملاقات نہیں فرماتے تھے کیونکہ بہت سے غیر مسلموں کے ساتھ آپ کے تعلقات تھے اور آپ ہمیشہ انہیں بڑے اخلاق اور محبت کے ساتھ ملتے تھے لیکن جب پنڈت لیکھرام نے اسلام کی مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا اور آنحضرت ﷺ کے خلاف سخت بد زبانی سے کام لیا تو آپ کی غیرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ ان حالات میں ایسے شخص کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھیں خصوصاً جبکہ اب وہ آپ کے خلاف مباہلہ