سلسلہ احمدیہ — Page 423
۴۲۳ اس سے زیادہ نہیں۔لیکن جس طرح ہر سلسلہ تفصیلات میں اپنا الگ الگ رستہ قائم کر لیتا ہے اسی طرح بعض تفصیلی امور میں جماعت احمدیہ میں بھی بعض طریق قائم ہو چکے ہیں اور انہیں شامل کر کے جماعت احمدیہ کا موجودہ نظام مندرجہ ذیل صورت میں سمجھا جاسکتا ہے۔(۱) اوّل خلیفہ وقت ہے جو جماعت کے نظام کا مستقل اور مرکزی نقطہ ہے اور اس قید کے ساتھ کہ وہ کوئی حکم شریعت اسلامی اور اپنے نبی متبوع کی ہدایات کے خلاف نہیں دے سکتا ( اور ایسا ہونا ممکن ہی کہاں ہے ) اسے کلی اختیارات حاصل ہیں۔(۲) دوسرے صدر انجمن احمد یہ ہے جو سلسلہ کے کاموں کو چلانے کے لئے خلیفہ وقت کے ماتحت ایک مرکزی اور انتظامی انجمن ہے جس کے ممبر مختلف صیغوں کے انچارج ہوتے ہیں اور ناظر کہلاتے ہیں۔مگر خلیفہ وقت کے حکم سے ایسے ممبر بھی مقرر ہو سکتے ہیں جن کے پاس کسی صیغہ کا چارج نہ ہو۔موجودہ وقت میں مندرجہ ذیل نظارتیں قائم ہیں۔(۱) نظارت اعلیٰ (۲) نظارت دعوة وتبليغ (۳) نظارت تعلیم و تربیت (۴) نظارت تالیف و تصنیف (۵) نظارت ضیافت (۶) نظارت مقبرہ بہشتی (۷) نظارت امور خارجه (۸) نظارت امور عامہ اور (۹) نظارت بیت المال۔یہ سب نظارتیں صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ہیں اور اسی کا حصہ ہیں۔(۳) تیسرے مجلس مشاورت ہے جو صدرانجمن احمدیہ کے مقابل پر یعنی اس کے متوازی ایک مشیر انجمن ہے۔اس مجلس کا عمو ماسال میں ایک دفعہ اجلاس ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی جب خلیفہ وقت چاہے اس کا اجلاس منعقد کر سکتا ہے۔یہ مجلس صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت نہیں بلکہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت