سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 356 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 356

۳۵۶ کا نام آپ نے ناظر، تجویز فرمایا اور ان کی انجمن کا نام ” مجلس نظارت“ رکھا۔اور مختلف ناظروں کے اوپر آپ نے ایک صدر ناظر مقرر کیا جس کا نام ” ناظر اعلی رکھا گیا جس کا کام مختلف نظارتوں میں اتحاد عمل قائم رکھنا اور ان کے اختلافی امور کا فیصلہ کرنا اور مجلس نظارت کے اجلاسوں میں صدارت کے فرائض بجالا نا تھا۔گویا اس طرح مرکز سلسلہ میں دو مختلف نظام قائم ہو گئے۔ایک وہی پرانا صدرانجمن احمدیہ کا نظام اور دوسرے مجلس نظارت کا جدید نظام۔ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ کی صورت نہیں تھی کیونکہ صدر انجمن احمدیہ کا کام صدر انجمن کے ہاتھ میں رہا اور جو نیا کام خلافت ثانیہ میں جاری ہوا تھا وہ نظارت کے انتظام میں رکھ دیا گیا۔اس موقعہ پر آپ نے مختلف قسم کے کاموں کو بھی ایک اصولی تقسیم کے مطابق منقسم فرمایا چنانچہ ایک نظارت دعوۃ و تبلیغ کی قائم کی گئی ایک تعلیم و تربیت کی ایک بیت المال کی ایک ضیافت کی ایک مقبرہ بہشتی کی ایک امور خانہ کی اور ایک امور عامہ کی وغیر ذالک۔اس جدا گا نہ نظام نے کئی سال تک علیحدہ صورت میں کام کیا اور جب اس نظام کا اچھی طرح تجربہ ہو گیا تو اکتو بر ۱۹۲۵ء میں آکر صدر انجمن احمدیہ کے نظام اور اس جدید نظام کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا گیا جس میں صدر انجمن احمدیہ کا نام اور اس کی اصولی صورت قائم رہی مگر صیغہ جات کی تقسیم اور ناظروں کی ذمہ دارانہ پوزیشن جدید نظام کے مطابق قائم ہوگئی اور اب یہی مخلوط صورت جماعت کا مرکزی نظام ہے۔صیغہ قضا کا قیام :۔اس انتظامی تشکیل کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفہ اس نے ایک جدید نظام صیغہ قضا کا بھی قائم کیا یعنی جماعت کے اندرونی تنازعات کے فیصلہ کے لئے ایک نئے صیغہ کی بنیاد رکھی جس میں مختلف لوگ بطور قاضی مقرر کئے گئے اور ان قاضیوں کے اوپر اپیلوں کے فیصلہ کے لئے قاضیوں کے بیچ قائم کئے گئے اور آخری اپیل خود حضرت خلیفتہ اسی کے پاس رہی۔ان قومی عدالتوں میں صرف ایسے تنازعات پیش ہوتے ہیں جو یا تو محض دیوانی حقوق کا رنگ رکھتے ہیں اور یا وہ حکومت وقت کے قانون کے ماتحت قابل دست اندازی پولیس نہیں سمجھے جاتے۔اس صیغہ کے قیام سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اول تو گویا گھر کا فیصلہ گھر میں ہی ہو جاتا ہے اور سرکاری عدالتوں میں رو پیدا اور