سلسلہ احمدیہ — Page 267
۲۶۷ دیا کہ نماز اس طرح پڑھنی چاہئے اور یہ عملی صورت کسی روایت کے ذریعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مسلسل تعامل کے ذریعہ بعد کے لوگوں تک پہنچی۔یہ وہ چیز ہے جس کا نام سنت ہے اور جو حدیث سے بالکل الگ ہے۔اس طرح حضرت مسیح موعود نے گویا اسلامی تعلیم کے تین ماخذ قرار دیئے۔اوّل قرآن شریف جو خدا کا کلام ہے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی پوری طرح محفوظ ہو کر یقینی اور قطعی شہادت کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔دوسرے سنت یعنی آنحضرت ﷺ کا عمل جو کسی زبانی روایت کے ذریعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مسلسل تعامل کے واسطے سے نیچے آیا ہے۔اور تیسرے حدیث جوان اقوال کے مجموعہ کا نام ہے جو راویوں کے سینے سے جمع کئے جا کر آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دوسوسال بعد ضبط میں آئے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں حدیث کے رتبہ کو کم نہیں کرنا چاہتا اور اپنی جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی صحیح حدیثوں کو انتہائی عزت سے دیکھے اور ان پر عمل کرے مگر بہر حال حدیث کا مرتبہ قرآن وسنت کے مقابل پر بہت ادنیٰ ہے اور اگر قرآن و حدیث میں کوئی تعارض پیدا ہو اور تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو سکے تو لازماً قرآن کو اختیار کر کے حدیث کو ترک کر دیا جائے گا کیونکہ حدیث قرآن پر قاضی نہیں بلکہ قرآن حدیث پر قاضی ہے۔قرآن شریف کے معانی غیر محدود ہیں:۔ایک اور نہایت اہم اور نہایت لطیف انکشاف جو حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جس نے اسلامک ریسرچ میں گویا ایک انقلابی صورت پیدا کر دی اور نئے علوم کے لئے ایک نہایت وسیع دروازہ کھول دیا یہ تھا کہ آپ نے خدا سے علم پا کر اعلان فرمایا کہ جیسا کہ عام طور پر مسلمانوں میں خیال کیا جاتا ہے یہ بات ہرگز درست نہیں کہ قرآن شریف کے معانی اس محدود تفسیر میں محصور ہیں جو حدیث یا گذشتہ مفسرین نے بیان کر دی ہے بلکہ قرآن کے معانی غیر محدود اور غیر متناہی ہیں اور خدا نے یہ انتظام اس لئے فرمایا ہے کہ تا ہر زمانہ کی لے اس بحث کے لئے دیکھو الحق لدھیانہ دوکشتی نوح دور یویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی