سلسلہ احمدیہ — Page 251
۲۵۱ حضرت مسیح موعود نے اس گندے عقیدے کے خلاف ایک رسالہ لکھ کر شائع فرمایا جس میں لکھا کہ سید صاحب کا یہ عقیدہ ایسا عقیدہ ہے جس نے خالق و مخلوق کے باہمی تعلق کو بالکل کمزور کر دیا ہے۔آپ نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال پکڑنے کے علاوہ اپنی مثال دے کر یہ دعویٰ پیش کیا کہ اگر کسی شخص کو قبولیت دعا کے مسئلہ میں شک ہو تو وہ میرے سامنے آ کر جس طرح چاہے تسلی کر لے۔چنانچہ آپ نے سرسید مرحوم کو مخاطب کر کے لکھا:۔اے کہ گوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قدر تہائے حق قصہ کو تہ کن ہیں از مادعائے مستجاب لے یعنی اے وہ جو یہ دعوی کر رہے ہو کہ اگر دعا میں کوئی اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے تم جلدی سے میری طرف آجاؤ کہ میں تمہیں سورج کی طرح دعا کا اثر دکھاؤں گا۔ہاں ہاں خدا کی قدرتوں کے اسرار سے انکار نہ کرو اور اگر دلیل چاہتے ہو تو کسی لمبی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے آؤ اور میری قبول شدہ دعا کا نتیجہ دیکھ لو۔“ ان اشعار میں حضرت مسیح موعود نے اپنی جس قبول شدہ دعا کی طرف اشارہ کیا تھا وہ پنڈت لیکھرام والی پیشگوئی سے تعلق رکھتی تھی جس میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی دعا کے نتیجہ میں آپ کو الہاما بتایا تھا کہ پنڈت صاحب اپنی شوخی اور گستاخی کی وجہ سے چھ سال کے اندر اندر عید کے دوسرے دن عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔واقعی دعا جیسے مسئلہ میں اصل ثبوت یہی ہے کہ عملاً دعا کا نتیجہ دکھا دیا جاوے۔اگر دعا کا نتیجہ عملاً دکھا دیا جاوے تو یہ ایک ایسی قطعی شہادت ہوگی جس کے بعد کوئی عقلمند شخص انکار نہیں کر سکتا اور حضرت مسیح موعود نے اپنی سینکڑوں قبول شدہ دعائیں دکھا کر ثابت کر دیا کہ قبولیت دعا کا مسئلہ بالکل سچا اور یقینی ہے۔الہام کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے:۔اسی طرح الہام اور کلام الہی کے متعلق آپ نے لکھا کہ اس دروازہ کو بند کرنے کا عقیدہ ایسا خطرناک اور مہلک ہے کہ اس سے خدا کے متعلق یقین اور ل بركات الدعاء - رحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳