سلسلہ احمدیہ — Page 196
١٩٦ آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔عبادت الہی: جیسا کہ او پر اشارہ کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود کی زندگی ایک مجسم عبادت تھی کیونکہ آپ کا ہر قول و فعل خواہ وہ بظاہر اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے تھایا اپنے اہل وعیال اور 66 الله رشتہ داروں اور دوستوں اور مہمانوں اور ہمسایوں کے آرام کی خاطر تھا یا کسی اور غرض سے تھا اس میں آپ کی نیت صرف رضائے الہی کی جستجو تھی اور آپ اپنے آقا اور مخدوم آنحضرت ﷺ کے اس پاک ارشاد کا عملی نمونہ تھے جس میں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ہر اچھا کام جو انسان رضائے الہی کے خیال سے کرتا ہے وہ عبادت میں داخل ہے حتی کہ اگر کوئی انسان اپنی بیوی کے منہ میں اس نیت کے ساتھ ایک لقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ بیوی کے آرام کا خیال رکھو تو اس کا یہ فعل بھی ایک عبادت ہے۔اس معنی میں اور اس تشریح کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی ساری زندگی یقیناً مجسم عبادت تھی مگر عبادت کے معروف مفہوم کے لحاظ سے بھی آپ کا پایہ نہایت بلند تھا۔جوانی کی زندگی جو نفسانی لذات کے زور کا زمانہ ہوتی ہے وہ آپ نے ایسے رنگ میں گزاری کہ دیکھنے والوں میں آپ کا نام مسیر مشہور ہو گیا تھا جو پنجابی زبان میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنا بیشتر وقت مسجد میں بیٹھ کر عبادت الہی میں گزار دے۔قرآن شریف کے مطالعہ میں آپ کو اس قدر شغف تھا کہ گویا وہ آپ کی زندگی کا واحد سہارا ہے جس کے بغیر جینا ممکن نہیں اور قرآن شریف کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک جگہ خدا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے پنجگانہ نماز تو خیر فرض ہی ہے جس کے بغیر کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو مسلمان نہیں رہ سکتا۔نفل نماز کے موقعوں کی بھی حضرت مسیح موعود کو اس طرح تلاش رہتی تھی جیسے ایک پیاسا انسان پانی کی تلاش کرتا ہے۔تہجد کی نماز جو نصف شب کے بعد اٹھ کر ادا کی جاتی ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا دستور تھا کہ با قاعدہ شروع وقت میں اٹھ کر ادا فرماتے تھے اور اگر کبھی زیادہ بیماری کی