سلسلہ احمدیہ — Page 155
۱۵۵ (۴) حکیم عبد القادر جو طالب پور ضلع گورداسپور کا رہنے والا تھا اس نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک نہایت گندی نظم لکھی اور اس میں خدا سے دعا کی کہ وہ جھوٹ کا مطلع صاف کرے اور پھر ۱۹۰۷ء میں طاعون سے ہلاک ہو کر خود جھوٹ کے مطلع کو صاف کر گیا ہے (۵) مولوی محمد جان عرف ابوالحسن پسروری جو ایک مصنف تھا اور حدیث بخاری کا شارح بھی تھا اس نے ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک کتاب ” بجلی آسمانی ، لکھی اور دعا کی کہ مرزا صاحب پر خدا کی طرف سے بجلی گرے مگر اس کتاب کے لکھنے کے بعد وہ ایک ماہ کے اندراندرخود طاعون کی بجلی کا نشانہ بن کر پیوند خاک ہو گیا۔کے (۶) پھر ایک شخص سعد اللہ لدھیانوی تھا جس نے کی مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف ایسی گندی تحریریں لکھیں کہ انسانی شرافت ان کے ذکر سے شرماتی ہے اس نے تحدی کے ساتھ لکھا تھا کہ میں مرزا صاحب کو نیچا دکھا کر تباہ و برباد کروں گا مگر آخر ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی خود طاعون سے ہلاک ہو گیا۔بلکہ سعد اللہ کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ایک اور عظیم الشان پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور وہ یہ کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے متعلق لکھا تھا کہ آپ نعوذ باللہ ابتر رہیں گے یعنی آپ کا سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور کوئی نام لیوانہیں رہے گا اور آپ لا ولد اور لاوارث مریں گے۔اس پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو الہام کیا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر یعنی تیرا دشمن خود ابتر اور لاولد ر ہے گا۔چنانچہ اس کے بعد سعد اللہ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور جولڑ کا پہلے سے اس کا موجود تھا وہ بھی لا ولد گزرگیا۔اور ساری نسل خاک میں مل گئی۔سے (۷) قادیان میں تین جو شیلے آریہ اچھر چند ، سوم راج اور بھگت رام رہتے تھے جنہوں نے قادیان سے حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک اخبار شبھ چپتک‘ نامی جاری کیا تھا اور اس اخبار کو کی مخالفت میں وقف کر دیا تھا اور یہ مخالفت محض اصولی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ اخبار شبھ چنتک کا ہر ورق حضرت مسیح موعود کے خلاف گندی گالیوں اور جھوٹے الزامات سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور لا تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۲ تا ۴ ۴۸ سے تلخیص از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۹۸ نشان نمبر ۲۰۵۔سے - تلخیص از تمه حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۳۵ تا ۴۳۹