سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 6

۶ جلا دیا گیا اور مرزا عطا محمد صاحب کو جو بانی کے دادا تھے کئی سال تک ایک قریب کی ریاست میں جلا وطنی کی زندگی گزارنی پڑی اور آخر اسی غریب الوطنی کی حالت میں ان کی وفات ہوئی۔ان کے بعد بانی کے والد مرزا غلام مرتضی صاحب کو بھی اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بڑی تلخی کاسامنا رہا اور بلآخر جبکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے متفرق سکھ رؤساء کوزبر کر کے پنجاب میں ایک واحد سکھ حکومت قائم کی تو اس وقت مہاراجہ کی اجازت سے مرزا غلام مرتضی صاحب اپنے وطن قادیان میں واپس آگئے۔مگر اس عرصہ میں جدی ریاست کے سب گاؤں جو اس وقت بھی اسی (۸۰) سے اوپر تھے قبضہ سے نکل چکے تھے اور صرف قادیان اور اس کے اردگرد کے چند دیہات پر حقوق تسلیم کئے گئے۔قادیان میں واپس آنے کے بعد مرزا غلام مرتضی صاحب نے جو ایک نہایت ماہر طبیب ہونے کے علاوہ ایک بہت بارعب اور بہادر اور خود دار انسان تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خواہش پر پنجاب کی سکھ حکومت کے ماتحت ایک فوجی عہدہ قبول کیا اور مہاراجہ کی زندگی میں اور اس کے کئی سال بعد تک نہایت نمایاں خدمات سرانجام دیں اور جب ۱۸۴۸ء میں مرکزی سکھ حکومت کے خلاف پنجاب کے بعض حصوں میں بغاوت کا جھنڈا بلند ہوا تو مرزا غلام مرتضی صاحب نے حکومت وقت کا ساتھ دیا اور اس کی طرف سے ہو کر باغیوں کے قلع قمع میں حصہ لیا۔اس کے بعد پنجاب میں جلد ہی سکھوں کی حکومت کا خاتمہ ہو کر انگریزوں کا تسلط قائم ہو گیا حکومت کی اس تبدیلی کے نتیجہ میں اس خاندان کو پھر ایک سخت دھکا لگا یعنی نہ صرف خاندانی جاگیر کا باقیماندہ حصہ ضبط ہو گیا بلکہ بہت سے مالکانہ حقوق بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور گوسر کا رانگریزی نے ضبط شدہ جاگیر کے بدلے میں خفیف سی نقد پنشن منظور کی مگر اس پینشن کو اس جاگیر سے جو ضبط کی گئی تھی کوئی نسبت نہیں تھی۔تا ہم مرزا غلام مرتضی صاحب نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ ملک کی قائم شدہ حکومت کے ساتھ بہر حال تعاون کرنا چاہئے اور کسی صورت میں امن کا رستہ نہیں چھوڑ نا چاہئے نئی حکومت کے ساتھ پوری طرح تعاون کیا اور جب ۱۸۵۷ء میں غدر کا مشہور واقعہ پیش آیا تو بانی سلسلہ