سلسلہ احمدیہ — Page 135
۱۳۵ نہیں نہیں میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گا۔میں تیری حفاظت میں کھڑا ہوں اور کوئی شخص تجھ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔انہی دنوں میں حضرت مسیح موعود نے یہ بھی کہا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اس عدالت میں سزا ہو جائے گی مگر عدالت اپیل میں بریت ہوگی۔الغرض یہ مقدمہ دو سال تک چلتا رہا۔اور اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہوا اور بالآخر مجسٹریٹ نے ۱۹۰۴ء کے آخر میں آپ کو پانچ سوروپیہ جرمانہ کی سزا دے دی اور دوسرے مقدمہ میں جو ایڈیٹر الحکم کی طرف سے تھا مولوی کرم دین کو پچاس روپے جرمانہ کیا گیا۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے جرمانہ فوراً ادا کر دیا گیا اور سشن حج کے پاس اپیل کی گئی سشن جج نے جو ایک انگریز افسر تھا پہلی ہی پیشی میں جو جنوری ۱۹۰۵ء میں ہوئی اپیل کو منظور کر لیا بلکہ افسوس ظاہر کیا کہ ایسا معمولی سا مقدمہ اتنے لمبے عرصہ تک چلتا رہا ہے اور لکھا کہ کرم دین نے جن گرے ہوئے اخلاق کا اظہار کیا ہے اس کے پیش نظر جو الفاظ اس کے متعلق مرزا صاحب نے لکھے ہیں وہ بالکل جائز اور واجبی ہیں اور ان سے اس کی قطعاً کوئی ہتک نہیں ہوئی بلکہ صرف امر واقع کا اظہار ہوا ہے جو حالات کے ماتحت ضروری تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود خدائی وعدہ کے مطابق بری کئے گئے اور آپ کا جرمانہ واپس ہوا۔مگر مولوی کرم دین کا جرمانہ قائم رہا اور اس کے جھوٹ اور کمینگی پر ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق مثبت ہوگئی۔منارة امسیح کا سنگ بنیاد :۔مسیح موعود کے متعلق بعض اسلامی پیشگوئیوں میں یہ ذکر آتا ہے کہ اس کا نزول دمشق کے مشرق کی طرف ایک سفید مینار پر ہوگا۔اس پیشگوئی کے اصل معنے تو اور ہیں یعنی یہ کہ مسیح موعود کا نزول ایسے دلائل کے ساتھ ہو گا جو دودھ کی سفیدی کی طرح بے عیب ہوں گے اور اس کی روشنی دور دور تک نظر آئے گی۔لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود کا یہ طریق تھا کہ جہاں تک ممکن اور جائز ہو ہر پیشگوئی کو ظاہر میں بھی پورا کرنے کی کوشش فرماتے تھے اس لئے آپ نے ۱۹۰۰ء میں یہ تجویز کی تھی کہ قادیان کی مسجد اقصیٰ میں ایک سفید منارہ تعمیر کیا جاوے جس میں ایک بڑی گھڑی لے اس مقدمہ کے حالات کے لئے دیکھو الحکم بابت سال ۱۹۰۳ء ۱۹۰۴ء۔۱۹۰۵ء نیز دیکھو سیرۃ المہدی