سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 95 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 95

۹۵ جماعت احمد یہ ہو گا اور یہ کہ اسی نام کے ماتحت مردم شماری میں آپ کے متبعین کا ذکر ہونا چاہئے۔چنانچہ اس کے بعد سے آپ کی جماعت ” جماعت احمدیہ اور آپ کے ماننے والے احمدی کہلانے لگے۔مگر یہ ایک بہت افسوس اور تکلیف کی بات ہے کہ مخالفین نے اس چھوٹے سے معاملہ میں بھی اپنی بداخلاقی کا ثبوت دیا ہے اور بجائے اس نام کو استعمال کرنے کے جو جماعت نے اپنے لئے پسند کیا ہے وہ انہیں ”مرزائی یا ” قادیانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس سے ہمارا تو کچھ نہیں بگڑتا مگر یقیناً ان کے اپنے اخلاق پر اچھی روشنی نہیں پڑتی۔احمدی نام کی وجہ حضرت مسیح موعود نے یہ بیان فرمائی کہ قرآن شریف اور احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں مقدر تھیں۔ایک جلالی بعثت تھی جو خود آپ کے وجود باوجود کے ذریعہ محمد نام کے ماتحت ہوئی اور دوسری جمالی بعثت مقدر تھی جو ایک ظل اور بروز کے ذریعہ احمد نام کے ماتحت ہوئی تھی اور آپ نے لکھا کہ چونکہ یہ ظلّ اور بروز میں ہوں اس لئے میں نے خدا کے منشاء کے ماتحت اپنی جماعت کا نام جماعت احمد یہ رکھا ہے۔لے یہ بتایا جا چکا ہے کہ پہلے دن جبکہ حضرت مسیح موعود نے اس وقت تک جماعت احمد یہ لدھیانہ میں سلسلہ بیعت شروع فرمایا تو آپ کے ہاتھ پر کی ترقی اور اس کے اسباب:۔چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی۔یہ مارچ ۱۸۸۹ء کا واقعہ ہے یہ چالیس اصحاب قریباً سارے کے سارے وہ لوگ تھے جو ایک عرصہ سے آپ کے اثر کے ماتحت آ کر آپ کی صداقت اور روحانی کمال کے قائل ہو چکے تھے۔اس کے بعد بیعت کا سلسلہ آہستہ آہستہ جاری رہا حتی کہ ان اصحاب کی فہرست سے جو آپ نے ۱۸۹۶ء کے آخر میں تیار کی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں معروف بیعت کنندگان کی تعدا د۳۱۳ تھی۔اس فہرست میں استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر عورتوں اور بچوں کے نام شامل نہیں تھے اور نہ ہی غیر معروف احمدیوں کے نام شامل تھے جنہیں ملا کر اس وقت تک یعنی ۱۸۹۶ء کے آخر تک جماعت احمدیہ کی مجموعی تعداد ڈیڑھ دو ہزار بھی جاسکتی ہے۔اشتہار ۴ رنومبر ۱۹۰۰ء شخص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳ ۴۷ جدید ایڈیشن