سلسلہ احمدیہ — Page 88
۸۸ ہوں کہ جو میرے دل میں تیرے لئے ہے اور اس محبت کو یاد دلاتا ہوں عرض کرتا ہوں کہ جس کے پودے کو میں نے تیرے لئے اپنے دل کی گہرائیوں میں نصب کیا ہے کہ تو خود میری بریت کے لئے اٹھ۔ہاں اے میری پناہ! اے میرے ملجاء و مالوے ! تجھے تیری ذات کی قسم ہے کہ ایسا ہی کر۔وہ آتش محبت جو تو نے میرے دل میں شعلہ زن کی ہے جس کی لپٹوں سے تو نے میرے دل میں غیر کی محبت کو جلا کر خاک کر دیا ہے اب ذرا اسی نور سے میرے ظاہر کو بھی تو روشن فرما اور میری اس تاریک و تار رات کو دن کی روشنی سے بدل دے۔“ 66 اس کے بعد خدا نے کئی نشان دکھائے مگر اس دعا کی قبولیت کا زیادہ ظہور طاعون کے ذریعہ ہوا جس نے ۱۹۰۲ء میں زور پکڑ کر جماعت کی ترقی میں ایک انقلابی صورت پیدا کر دی اور لوگ خدائی سلسلہ میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہو گئے۔حضرت مسیح موعود کا آخری فرزند اور اس کی وفات:۔اسی سال یعنی ۱۸۹۹ء میں ہمارا سب سے چھوٹا بھائی مبارک احمد پیدا ہوا۔مبارک احمد وہ آخری لڑکا تھا جو حضرت مسیح موعود کے گھر پیدا ہوا۔اس سے پہلے دوسری شادی سے آپ کے گھر میں تین لڑکے زندہ موجود تھے یعنی ایک حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے جماعت کے امام اور خلیفہ ہیں۔دوسرے خاکسار مؤلف رسالہ ہذا جو ۱۸۹۳ء میں پیدا ہوا اور تیسرے عزیزم مکرم مرزا شریف احمد صاحب جو ۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی یہ ساری اولا دخدائی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہوئی تھی یعنی ہر بچہ کی ولادت سے پہلے آپ کو خدائی الہام کے ذریعہ اس کی ولادت کی خبر دی گئی تھی چنانچہ ۱۸۹۹ء میں جب مبارک احمد پیدا ہوا تو آپ کو خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ یہ لڑکا آسمان سے آتا ہے اور آسمان کی طرف ہی اٹھ جائے گا۔حضرت مسیح موعود نے اس الہام کی یہ تعبر فرمائی کہ یا تو یہ لڑکا خاص طور پر نیک اور پاکباز اور روحانی امور میں ترقی