سلسلہ احمدیہ — Page 44
۴۴ سے بیان کیا کہ میں جب شروع شروع میں قادیان آیا تو اس وقت گرمی کا موسم تھا۔حضرت مسیح موعود حسب عادت نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ ملے اور مجھے خود اپنے ہاتھ سے شربت بنا کر دیا اور لنگر خانہ کے منتظم کو بلا کر میرے آرام کے بارے میں تاکید فرمائی اور مجھے بھی بار بار فرمایا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بے تکلف کہہ دیں پھر اس کے بعد جب میں سردیوں میں آیا اور نماز اور کھانے سے فارغ ہو کر مہمان خانہ کے ایک کمرہ میں سونے کے لئے لیٹ گیا اور رات کا کافی حصہ گزر گیا تو کسی نے میرے کمرہ کے دروازہ کو آہستہ سے کھٹکھٹایا۔میں جب اٹھ کر گیا اور دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود خود بنفس نفیس ایک ہاتھ میں لائین لئے اور دوسرے میں ایک پیالہ تھامے کھڑے تھے اور مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمانے لگے اس وقت کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں کہ شاید رات کو دودھ پینے کی عادت ہوگی۔وہ دوست بیان کرتے تھے کہ میں شرم سے کٹا جارہا تھا مگر حضرت مسیح موعود اپنی جگہ معذرت فرما رہے تھے کہ میں نے آپ کو اس وقت اٹھا کر تکلیف دی ہے لیے اس چھوٹے سے واقعہ سے آپ کے جذبہ مہمان نوازی کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا۔تین بڑی قوموں کے متعلق اصولی پیشگوئیاں :۔اس زمانہ میں مخالفت کا بڑا زور تھا اور ہر 66 ہے۔قوم کی طرف سے نشان نمائی کا مطالبہ ہورہا تھا اور مسلمان ، عیسائی اور ہند وسب حضرت مسیح موعود کے خلاف میدان میں اترے ہوئے تھے اور آپ کے دعوی کے مطابق تقاضا کر رہے تھے کہ اگر آپ میں کوئی روحانی طاقت ہے یا اگر اسلام کی حقانیت کے متعلق آپ کا دعوی سچا ہے تو ہمیں کوئی نشان دکھا ئیں۔اس پر آپ نے زمانہ کے قلیل فرق کے ساتھ ہندوستان کی تین بڑی قوموں یعنی مسلمانوں عیسائیوں اور ہندوؤں کے متعلق علیحدہ علیحدہ پیشگوئیاں فرما ئیں اور ان پیشگوئیوں کو ان قوموں کے لئے خدا کی طرف سے ایک نشان ٹھہرایا۔۲ جو پیشگوئی مسلمانوں سے تعلق رکھتی تھی وہ مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کے متعلق ۱۸۸۸ء میں کی گئی تھی مگر اس کی میعاد ۱۸۹۲ء میں شروع ہوئی۔مرزا احمد بیگ صاحب حضرت مسیح موعود 1 سیرۃ المہدی حصہ سوم شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۷۶