سلسلہ احمدیہ — Page 425
۴۲۵ شرح مقرر نہیں بلکہ ہر شخص کے اخلاص اور توفیق پر اسے چھوڑا گیا ہے مگر بالعموم جماعت احمدیہ کے مخلص احباب اس چندہ میں بہت شوق سے حصہ لیتے ہیں اور گو سارے احمدی اس میں شریک نہیں کیونکہ یہ چندہ لازمی نہیں مگر اس چندہ کی مجموعی آمد چندہ عام کی آمد سے کم نہیں رہتی بلکہ اس سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔ان چار باقاعدہ چندوں کے علاوہ بہت سے خاص چندے بھی ہیں جو وقتی اور خاص ضروریات کے لئے جمع کئے جاتے ہیں اور یہ بھی بعض اوقات اچھے بھاری ہوتے ہیں۔ان جملہ چندوں کو ملا کر دیکھا جائے تو جماعت کی چندوں کی مجموعی اوسط ہر فرد کی آمد کے پانچویں حصہ کے برابر بنتی ہے مگر یہ اوسط ساری جماعت کے لحاظ سے ہے ورنہ کئی مخلص اس سے بہت زیادہ دیتے ہیں۔جو چندہ بھی مرکز میں آتا ہے وہ صدر انجمن احمدیہ کے خزانے میں ایک مستقل اور ذمہ وار افسر کی نگرانی میں رہتا ہے جس کے ماتحت ایک خاصہ عملہ کام کرتا ہے اور خزانہ میں روپیہ کا ادخال اور پھر خزانے سے روپیہ کی برآمدگی با قاعدہ تحریری طریق پر عمل میں آتی ہے اور ہر چیز کا پورا پورا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کی موجودہ وسعت یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی موجودہ وسعت کیا ہے۔یعنی جماعت کی موجودہ تعداد کیا ہے اور جماعت کہاں کہاں پائی جاتی ہے۔اس سوال کے پہلے حصہ کے ساتھ ہمیں چنداں دلچسپی نہیں۔کیونکہ ہمارے اندر اس اصول کو راسخ کر دیا گیا ہے کہ اصل چیز کام ہے نہ کہ تعداد۔اسی لئے اس بارے میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اگر ہماری تعداد زیادہ ہے تو اس لحاظ سے ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے اتنے قلیل عرصہ میں اتنی مخالفت کے باوجود ہمیں اتنی ترقی دے دی۔اور اگر ہماری تعداد تھوڑی ہے تو پھر ہم اس لحاظ سے اور بھی زیادہ خدا کے شکر گزار ہیں کہ باوجود تعداد کی اس قدر کمی کے خدا نے جماعت کو اتنے عظیم الشان کام کے سرانجام دینے کی توفیق دی۔اس طرح ہمارے لئے دونوں پہلو بابرکت ہیں۔اگر ہم زیادہ ہیں تو ہماری ترقی خدائی نصرت کی دلیل ہے