سلسلہ احمدیہ — Page 410
۴۱۰ حضرت خلیفتہ اسیح کو ہوشیار پاتی تھی بلکہ اس ربڑ کے گیند کی طرح جو ضرب کھا کر اور بھی اونچا اچھلتا ہے ہمارے امام کا ہر قدم ہر ضرب کے بعد پہلے سے زیادہ بلند جگہ پر پڑتا تھا۔اس کشمکش کی شدت چند دن نہیں چند یتے نہیں چند مہینے نہیں بلکہ دو ڈھائی سال تک جاری رہی مگر اس طویل جنگ میں حضرت خلیفہ اسیح نے ایک منٹ کے لئے بھی جماعت کے سر کو نیچا نہیں ہونے دیا بلکہ آب ایک متلاطم سمندر کی مہیب لہروں اور مواج پانیوں کے تباہ کن بھنوروں میں سے کی چھوٹی سی کشتی کو جس پر اس وقت ساری دنیا کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں بچتے بچاتے مگر احدیت کا جھنڈا لہراتے طوفان سے باہر نکال لائے۔اس مثلث اور عجیب و غریب جنگ کی تاریخ کا ایک حصہ تو اخباروں کے فائلوں میں ہے اور پبلک کی ملکیت ہے۔دوسرا حصہ اور گورنمنٹ کے دفتری ریکارڈ میں ہے اوراکثر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔اور تیسرا حصہ اور یہی سب سے زیادہ عجیب و غریب ہے صرف چند لوگوں کے دماغوں میں ہے اور غالباوہ کبھی شرمندہ عریانی نہیں ہوگا۔مگر بہر حال نتیجہ یہ ہے کہ احرار کی آب دوز کشتی جس سے وہ احمدیت کو تباہ کرنے کے لئے نکلے تھے تاجدار احمدیت کی پے در پے ضر میں کھا کر پیچھے ہٹی اور پھر ایک خدا کی تیار کی ہوئی چٹان یعنی شہید گنج کے سے ٹکرا کر سمندر کی تہ میں بیٹھ گئی۔اور اب صرف اس کے چند شکستہ تختے پانی کی سطح پر ادھر ادھر بہتے نظر آ رہے ہیں۔اور گورنمنٹ کے بعض افسروں کا ابال بھی اپنے اس انجام کو پہنچ گیا جس کی تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں۔ہاں مسلمانوں کے اس دوسرے طبقہ کی عداوت کی آگ ابھی تک کم و بیش سنگ رہی ہے اور نا اہا جب تک کہ جماعت احمد یہ اپنے اس تعمیری پروگرام کو مکمل نہ کرلے گی جس کی حضرت خلیفہ اسیح نے تحریک جدید میں بنیاد قائم کی ہے یہ آگ سلگتی ہی چلی جاوے گی اور پھر وہی ہو گا جو خدا کو ازل سے منظور ہے۔مگر بظاہر ان دب جانے شہید گنج لاہور میں ایک پرانی مسجد تھی جو سکھوں کے زمانہ میں گوردوارہ بنالی گئی۔پنجاب کے مسلمانوں میں اس کے حاصل کرنے کے لئے ۱۹۳۶ء میں زبردست ہیجان پیدا ہوا۔اس مہیجان میں احرار ہند نے جمہور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر سکھ لیڈروں کے ساتھ ساز باز کرنی چاہی اور اسلامی مفاد کو اپنے پاؤں کے نیچے مسل دیا۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ احرار کی طرف سے سخت بدظن ہو گئے اور انہیں غذار ملت قرار دے کر ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور اسکے ساتھ ہی احمدیت کو مٹانے کا وہ سارا طلسم جو ان لوگوں نے جمہورمسلمانوں پر کر رکھا تھا دھواں ہوکر اڑ گیا۔