سلسلہ احمدیہ — Page 395
۳۹۵ اور بے شک اپنے حقوق کی واجبی حفاظت کے لئے کوشش کریں مگر ہندوستان کے آئینی نظام میں شامل ہو کر نہ کہ اس سے علیحدہ رہ کر۔اور آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ ریاستوں کی شمولیت کے لئے ہندوستان کی فیڈریشن کے اوپر ایک کا نفڈریشن قائم کی جاوے تا کہ ریاستیں اپنے جداگانہ نظام کو قائم رکھتے ہوئے برطانوی ہند کے ساتھ پیوند کی جاسکیں۔غرض آپ نے ان کتب میں جن میں سے خاص طور پر ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل‘1 زیادہ مفصل اور زیادہ مبسوط ہے ہندوستان کے تمام عناصر۔حکومت۔ہندو۔مسلمان۔دیگر اقوام اور ریاست ہائے کو تفصیلی مشورہ پیش کیا اور سابقہ نظام کی خوبیوں اور نقائص کے ساتھ مقابلہ کر کے دکھایا کہ ہندوستان کے مستقبل کے لئے کونسا طریق زیادہ بہتر اور زیادہ مفید ہے اور آپ نے اپنی اس کتاب کو صرف ہندوستان میں ہی شائع نہیں فرمایا بلکہ اس کی بہت سی کا پیاں خاص انتظام کے ماتحت ولایت بھجوا کر وہاں کے ارباب حل و عقد تک بھی اپنا مشورہ پہنچا دیا مگر افسوس ہے کہ ہم اس مختصر گنجائش میں اس نہایت درجہ مفید اور قیمتی مشورہ کی تفصیلات میں نہیں جا سکتے البتہ بعض آراء کا خلاصہ درج ذیل کرتے ہیں۔سرمیلکام (بعدۂ لارڈ) ہیلی گورنر یوپی نے کتاب ” ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل“ کے متعلق اپنے ایک خط میں لکھا:۔” جماعت احمدیہ سے میرے پرانے تعلقات ہیں اور میں ان حالات سے خوب واقف ہوں اور اس روح کو خوب سمجھتا ہوں اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جسے لے کر یہ جماعت ہندوستان کے اہم مسائل کے حل کے لئے کام کر رہی ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب میرے لئے مفید ہوگی۔“ ہے سر عبداللہ ہارون ایم ایل اے نے لکھا:۔” میری رائے میں سیاسیات کے باب میں جس قدر کتا ہیں ہندوستان میں لکھی مصنفہ ۱۹۳۰ء تتمہ کتاب سیاسی مسئلہ کا حل