سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 335 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 335

۳۳۵ کافی ہے کہ آپ کی شادی حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی بلکہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں آپ کے گھر ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا جو جلد ہی فوت ہو گیا۔مگر اس کے بعد خدا نے آپ کو ماشاء اللہ بہت اولا د دی جن میں سے بڑے لڑکے کا نام مرزا ناصر احمد ہے جو خدا کے فضل سے ایک بہت ہو نہار نو جوان ہیں۔عبد خلافت ثانیہ کی ابتدائی کش مکش :۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت خلیلہ اسی جانی ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ بعد نماز عصر مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔اس وقت قادیان میں قریباً دو ہزار مردوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس تعداد میں ایک حصہ ان لوگوں کا بھی شامل تھا جو حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے آخری ایام میں یا آپ کی وفات کی خبر سن کر باہر سے آئے ہوئے تھے۔مگر دوسری طرف اس وقت قادیان میں ہی ایک حصہ ایسا بھی موجود تھا جو حضرت خلیفہ امسیح ثانی کی بیعت سے منحرف رہا۔اس حصہ میں زعماء منکرین خلافت اور ان کے رفقا ہر دو شامل تھے۔ہر چند کہ ان لوگوں کی تعداد بہت قلیل تھی یعنی اس وقت قادیان میں ان کی مجموعی تعدا د دو تین فی صدی سے زیادہ نہیں تھی مگر چونکہ ان میں بعض ذی اثر اصحاب شامل تھے۔مثلاً مولوی محمد علی صاحب ایم اے جو صدر انجمن احمدیہ کے مستقل سیکرٹری اور ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے اور جماعت میں اچھا اثر رکھتے تھے اور مولوی صدر الدین صاحب بی اے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے مستقل ہیڈ ماسٹر اور صدر انجمن احمدیہ کے قائم مقام سیکرٹری تھے اور اسی طرح بعض اور لوگ جوصدر انجمن احمدیہ کے مختلف صیغہ جات میں کام کرتے تھے اس گروہ میں شریک تھے اس لئے باوجود تعداد کی کمی کے ان لوگوں کے اثر کا دائرہ کافی وسیع تھا۔مگر سب سے زیادہ فکر جماعت کے اس سوادِ اعظم کے متعلق تھی جو قادیان سے باہر پنجاب و ہندوستان کے مختلف حصوں میں بالکل تاریکی کی حالت میں پڑا تھا۔پس خلافت کے انتخاب کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ جماعت کے ان منتشر دھاگوں کو سمیٹ کر پھر ایک رسی کی صورت میں جمع کر لیا جاوے چنانچہ اس کی طرف فوری توجہ دی گئی اور اخباروں اور رسالوں اور اشتہاروں کی غیر معمولی