سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 312 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 312

۳۱۲ مسجد یعنی مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی جو پہلے سے قریباً دو گنی بڑھ گئی۔اسی طرح آپ کے زمانہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی عظیم الشان عمارتیں تیار ہوئیں جن پر قریباً سوالاکھ روپیہ خرچ ہوا۔ان عمارتوں کے تیار کروانے میں براہ راست حضرت خلیفہ اول کی رائے اور تجویز کا دخل نہیں تھا بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں کی کوشش اور توجہ سے یہ عمارتیں تیار ہوئیں مگر آپ کے زمانہ میں ان کا تیار ہونا آپ ہی کی طرف منسوب ہوگا۔اسی طرح آپ کے زمانہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے وسیع احاطہ میں مسجد نور“ بھی تیار ہوئی اور سکول کے قریب ایک شفاخانہ بھی تیار ہوا جس کا نام نور ہسپتال“ رکھا گیا۔ہسپتال کی تیاری کلیہ اور مسجد نور کی تیاری بڑی حد تک ہمارے بلند ہمت نانا حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کی کوشش کا نتیجہ تھی جنہوں نے باوجود پیرانہ سالی کے احمدی جماعتوں میں دورہ کر کے ان عمارات کے لئے ایک بھاری رقم فراہم کی۔الغرض تعمیر عمارات کے لحاظ سے حضرت خلیفہ اول کا عہد ایک نمایاں خصوصیت رکھتا ہے۔جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں ان باتوں کو جماعت کی دینی اور تبلیغی کام سے تو کوئی تعلق نہیں مگر بہر حال وہ جماعت کی ترقی کا حصہ تھیں کیونکہ قادیان کی ظاہری رونق میں اضافہ ہونا بھی فی الجملہ سلسلہ کی ترقی کی علامت ہے۔جماعت احمدیہ کے پریس میں نمایاں اضافہ :۔حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جماعت کے پریس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا یعنی آپ کے زمانہ میں جماعت میں چار نئے اخبارات جاری ہوئے۔سب سے پہلے ۱۹۰۹ء میں قادیان سے اخبار ”نور“ کا اجراء ہوا جو ایک نو مسلم احمدی شیخ محمد یوسف صاحب نے سکھوں میں تبلیغ اسلام کے لئے جاری کیا۔اس کے بعد ایک اخبار ”الحق دہلی سے میر قاسم علی صاحب نے ۱۹۱۰ ء میں جاری کیا اور پھر قادیان سے ایک اور اخبار الفضل‘۱۹ار جون ۱۹۱۳ء سے جاری ہوا۔یہ اخبار حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( موجودہ امام جماعت احمدیہ ) نے تبلیغی اور تربیتی اور علمی اغراض کے ماتحت جاری کیا تھا اور خدا کے فضل سے اس نے بہت اچھی خدمات سرانجام دیں۔یہ وہی اخبار ہے جو حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد سے جماعت احمدیہ کا