سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 205

۲۰۵۔صفائی کرواتے تھے اور بعض اوقات نالیوں میں خود اپنے ہاتھ سے پانی بہا کر فینائل وغیرہ ڈالتے تھے۔غرض حضرت مسیح موعود کی زندگی ہر جہت سے بالکل سادہ اور تکلفات کی آلائش سے بالکل پاک تھی۔بیوی بچوں سے سلوک :۔قرآن شریف نے بار بار اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ شفقت و احسان کا سلوک کریں اور آنحضرت یہ حدیث میں فرماتے ہیں کہ خیر کم خیر کم لاهله یعنی اے مسلمانو ! تم میں سے خدا کی نظر میں بہترین اخلاق والا شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے۔اس معیار کے مطابق حضرت مسیح موعود یقیناً ایک خیر الناس وجود تھے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت درجہ پاکیزہ اور حسن و احسان کی خوبیوں سے معمور تھا۔یہ مضمون اس نوعیت کا ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے مجھے کسی قدر حجاب محسوس ہوتا ہے مگر میں اپنے ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ایک بہترین خاوند اور بہترین باپ تھے اور گھر کے اس بہشتی ماحول اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کی مستورات اپنے خانگی تنازعات میں حضرت مسیح موعود کو اپنا ایک زبردست سہارا اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک نہایت مضبوط ستون خیال کرتی تھیں کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ ہماری ہر شکایت نہ صرف انصاف بلکہ رحمت واحسان کے جذبات کے ساتھ سنی جائے گی۔مجھے وہ لطیفہ نہیں بھولتا جبکہ ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کے عہد حکومت میں ایک دفعہ ایک معزز احمدی نے کسی خانگی بات میں ناراض ہو کر اپنی بیوی کوسخت سست کہا۔بیوی بھی حساس تھیں وہ خفا ہو کر حضرت مسیح موعود کے گھر میں آگئیں اور ہماری والدہ صاحبہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود تک اپنی شکایت پہنچائی۔دوسری طرف وہ صاحب بھی غصہ میں جماعت احمدیہ کے ایک نہایت معزز فر د حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے پاس آئے اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود تک اپنے حالات پہنچانے چاہے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی طبیعت نہایت ذہین اور بامذاق تھی۔ان دوست کی بات سن کر کہنے لگے۔میاں تم جانتے نہیں کہ آجکل ملکہ کا راج ہے پس میرا مشورہ