سلسلہ احمدیہ — Page 160
17۔پوچھو تو وہ لوگ بھی کس طرح انکار کر سکتے ہیں جو حضرت مسیح ناصری اور دوسرے مذہبی بزرگوں کے متعلق اسی قسم کے معجزوں پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ وہ معجزے تاریخی رنگ میں اپنے ساتھ بہت ہی کم ثبوت رکھتے ہیں اور اکثر ان میں سے قصے کہانیوں سے زیادہ نہیں۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام :۔حضرت مسیح موعو کے آخری ایام کے نشانوں کو ایک جگہ بیان کرنے کی غرض سے ہم نے واقعات کے تسلسل کا خیال نہیں رکھا اب اس زمانہ کے دوسرے واقعات تسلسل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے مقبرہ بہشتی کے انتظام کے لئے ایک مجلس مقرر فرما دی تھی جس کا صدر آپ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مقر فرمایا تھا۔اس کے جلدی بعد حضرت مسیح موعود کے سامنے بعض لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اب چونکہ سلسلہ کا کام بہت پھیل گیا ہے اور کئی قسم کے کام جاری ہو گئے ہیں اور مرکزی دفاتر کا انتظام اور چندوں کا حساب کتاب ایک با قاعدہ نام چاہتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ ایک واحد مرکزی کمیٹی بنا کر سارے دفتری کام اور انتظامات اس کے سپرد کر دیئے جائیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کو منظور کر کے ایک مرکزی مجلس کے قیام کو منظور فرمایا اور اس طرح صدرانجمن احمدیہ کا وجود ظہور میں آ گیا۔صدر انجمن احمدیہ کے قیام کے بعد وہ تین انجمنیں بھی جو اس سے پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور ریویو آف ریلیجنز اور مقبرہ بہشتی کے انتظام کے لئے علیحدہ علیحدہ مقرر تھیں اس مرکزی انجمن کے ماتحت آگئیں چنانچہ جنوری ۱۹۰۶ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود کی منظوری سے صدرانجمن احمد یہ کے قواعد مرتب کر کے شائع کر دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود نے صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبر مقرر فرمائے اور انجمن کا صدر حضرت مولوی نور الدین صاحب کو مقرر کیا اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے سیکرٹری مقرر کئے گئے اور گو اس وقت خاکسار مؤلف رسالہ ہذا کے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( جو اس وقت جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں ) بہت چھوٹے تھے یعنی صرف سترہ سال کی عمر تھی مگر انہیں بھی حضرت مسیح موعود نے اس انجمن کا ممبرمقررفرمایا۔اور سلسلہ کا دفتری کام