سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 7

احمدیہ کے والد نے باوجود تنگ حالی کے اور باوجو دحکومت انگریزی کی طرف سے زخم خوردہ ہونے کے اپنی گرہ سے پچاس سوار مع ان کے گھوڑوں اور ساز وسامان کے حکومت کی امداد کے لئے پیش کئے جن میں بہت سے خود مرزا غلام مرتضی صاحب کے عزیزوں میں سے تھے چنانچہ بانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب بھی جو ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے ان نوجوانوں میں شامل تھے۔ان بے لوث خدمات کو جنرل نکلسن اور کئی دوسرے ذمہ دار انگریز افسروں نے اپنی چٹھیوں میں شکرو امتنان کے جذبات کے ساتھ تسلیم کیا اور اس سلوک سے شرمندہ ہو کر جو الحاق کے وقت انگریزی حکومت اس خاندان سے کر چکی تھی اس بات کا بار بار وعدہ کیا کہ جلد ہی کوئی مناسب موقعہ آنے پر خاندان کی پابحالی کا انتظام کیا جائے گا مگر یہ وعدے آج تک شرمندہ ایفاء نہیں ہوئے۔باوجود اس کے بانی نے جس زور دار رنگ میں حکومت وقت کے ساتھ وفاداری کی تعلیم دی ہے وہ آپ کی اس پاک ذہنیت کی بین دلیل ہے کہ اصول کے مقابلہ پر ذاتی مفاد کو خیال میں نہیں لانا چاہئے۔علاوہ ازیں اس عرصہ میں بانی کے اثر کے ماتحت آپ کا خاندان دنیا داری کے رستہ سے ہٹ کر اس دینی مسلک کو اختیار کر چکا ہے جس میں اس کی نظر سوائے خدا کے اور کسی طرف نہیں اٹھتی اور وہ کسی ایسے دنیوی مال و جاہ کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں جو اسے خدا کے رستہ کو چھوڑ کر حاصل ہو۔مرزا غلام مرتضی صاحب نے جن کے ساتھ علاقہ کے بڑے بڑے انگریز افسروں کے ذاتی اور دوستانہ تعلقات تھے اور وہ ہمیشہ گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رؤساء کے بلائے جاتے تھے قریباً انی سال کی عمر میں ۱۸۷۶ء میں وفات پائی اور فی الجملہ یہی وہ تاریخ ہے جس سے بانی کی پبلک زندگی کا آغاز ہوتا ہے جسے ہم مختصر طور پر اگلے باب میں بیان کریں گے لے لے ان خاندانی حالات کے لئے دیکھو (۱) کتاب پنجاب چیفس شائع کردہ حکومت پنجاب اور (۲) کتاب البریہ اور (۳) کشف الغطاء ہر دو مصنفہ مقدس بانی اور (۴) سیرۃ المہدی مصنفہ خاکسار مؤلف رسالہ ہذا۔