سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 136

۱۳۶ بھی لگائی جاوے اور روشنی کا بھی انتظام ہوتا کہ یہ روشنی خدائی نور کے لئے ایک ظاہری علامت بھی بن جاوے سے اس تجویز کے مطابق آپ نے بتاریخ ۱۳/ مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعہ مجوزہ مینار کی بنیاد رکھی اور خشت بنیاد کو اپنی ران مبارک پر رکھ کر بہت دیر تک لمبی دعا فرمائی ہے مگر چونکہ اس وقت جماعت کی مالی حالت کمز ور تھی اس لئے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مینار کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی اور ایک عرصہ تک کام رکا رہا اور پھر ۱۹۱۵،۱۶ء میں آکر خلافت ثانیہ میں اس کی تکمیل ہوئی۔مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا دردناک واقعہ :۔۱۹۰۳ء میں جماعت احمدیہ کو ایک نہایت دردناک واقعہ پیش آیا جو سلسلہ کی تاریخ میں ایک یاد گار رہے گا اور وہ یہ کہ ۱۹۰۲ء کے آخر میں افغانستان کے علاقہ خوست کے ایک معزز رئیس مولوی عبداللطیف صاحب حضرت مسیح موعود کا نام سن کر قادیان میں آئے اور آپ کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔یہ صاحب افغانستان کے بڑے علماء میں سے تھے اور دربار کا بل میں ان کی اتنی عزت تھی کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی اور ان کے شاگردوں اور معتقدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔انہوں نے کئی ماہ تک قادیان میں قیام کیا اور حضرت مسیح موعود کی صحبت سے بہت فائدہ اٹھایا اور اس عرصہ میں ان کا ایمان اتنا ترقی کر گیا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ عشق کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔جب وہ کئی ماہ کے قیام کے بعد اپنے وطن میں واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود کے پاؤں پر گر کر زار زار روئے اور کہنے لگے کہ مجھے نظر آ رہا ہے کہ مجھے اس دنیا میں اس مبارک چہرہ کی زیارت پھر نصیب نہیں ہوگی۔جب وہ کابل میں پہنچے تو امیر حبیب اللہ خان کے دربار میں ایک شور پڑ گیا کہ یہ شخص کا فراور مرتد ہو کر آیا ہے اور جہاد کا منکر ہے اور اگر وہ تو بہ نہ کرے تو اس سزا کا مستحق ہے کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔مولوی عبداللطیف صاحب نے انہیں سمجھایا کہ میں ہرگز مرتد یا کافر نہیں ہوں بلکہ اسلام کا خادم اور فدائی ہوں اور اسلام کے متعلق پہلے سے بہت زیادہ محبت اور اخلاص رکھتا ہوں۔ہاں میں نے حضرت مسیح موعود کے دعوی کو سچا جان کر آپ کو قبول کیا ہے اور یہ ایک حق ہے جسے میں چھوڑ نہیں سکتا اور لے دیکھو اشتہار مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء۔مجموعہ اشتہارات جلد نهم صفحه ۳۴ جدید ایڈیشن ۲ الحکم جلدے نمبرہ امورخہ ۷ار مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۴ کالم ۳