سلسلہ احمدیہ — Page 89
۸۹ کرنے والا ہوگا اور یا بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔چنانچہ مؤخر الذکر صورت درست نکلی اور یہ بچہ آپ کی زندگی میں ہی ۱۹۰۷ء میں وفات پا گیا۔حضرت مسیح موعود کو اپنے بچوں کے ساتھ بہت محبت تھی اور مبارک احمد سب سے چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی نسبت طبعاً محبت و شفقت کا زیادہ حصہ پاتا تھا اس لئے اس کی وفات پر آپ کو بہت صدمہ ہوا مگر چونکہ آپ کا اصل تعلق خدا سے تھا اس لئے آپ نے اس صدمہ میں صبر اور رضا کا کامل نمونہ دکھایا اور دوسروں کو بھی صبر ورضا کی نصیحت فرمائی حتی کہ جولوگ اس موقعہ پر افسوس اور ہمدردی کے اظہار کے لئے آئے تھے ان کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود ہمارے ساتھ اس رنگ میں گفتگو فرماتے تھے کہ گو یا صدمہ ہمیں پہنچا ہے اور آپ تسلی دینے والے ہیں۔اس موقعہ پر آپ نے مبارک احمد کی قبر کے کتبہ کے لئے چند شعر بھی تحریر فرمائے جو آپ کے جذبات قلب کی عمدہ تصویر ہیں۔ان میں سے دواشعار نمونہ کے طور پر درج ذیل کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر بشپ آف لاہور کو مقابلہ کا چیلنج : ۱۹۰۰ء میں لاہور میں ایک مشہور پادری ڈاکٹر لیفر ائے ہوتے تھے جو لا ہور کے لارڈ بشپ تھے اور پنجاب بھر کے عیسائیوں کے افسر اعلیٰ اور لیڈر تھے۔یہ صاحب دوسرے مذاہب کے خلاف جارحانہ پالیسی کے مؤید تھے اور اسی غرض سے انہوں نے مسلمانوں کو یہ دعوت دی تھی کہ مسیح کے مقابلہ پر اپنے رسول کی معصومیت ثابت کر کے دکھائیں۔حضرت مسیح موعود تو ان موقعوں کی تلاش میں رہتے تھے آپ نے فورا بشپ صاحب موصوف کے اس چیلنج کو قبول کر کے ان کے مقابلہ پر ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ