سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 83

۸۳ میں غیر احمدی مسلمانوں اور آریوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ عیسائیوں کی حمایت کی تھی اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اس مقدمہ کی ناکامی نے حضرت مسیح موعود کے مخالفین کی آتش غضب کو اور بھی بھڑ کا دیا تھا چنانچہ ۱۸۹۹ء کے شروع میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک دوسرا مقدمہ کھڑا کر دیا جس میں یہ استغاثہ تھا کہ مجھے مرزا صاحب کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اس لئے ان سے حفظ امن کی ضمانت لی جائے اور یا انہیں آزادی سے محروم کر کے زندانِ حراست میں ڈال دیا جائے۔مولوی محمد حسین صاحب کو اس مقدمہ کی جرات اس لئے بھی ہوئی کہ اتفاق سے اس وقت بٹالہ کے پولیس سٹیشن میں جس کے حلقہ میں قادیان واقع ہے ایک شخص شیخ محمد بخش نامی تھا نہ دار تھا جو حضرت مسیح موعود کا سخت مخالف تھا اور چونکہ حفظ امن کے مقدمہ میں عموماً پولیس کی رپورٹ پر فیصلہ ہوتا ہے اس لئے مولوی محمد حسین نے یہ موقعہ غنیمت سمجھ کر آپ کے خلاف حفظ امن کی درخواست گزار دی۔جب یہ درخواست تھانہ دار مذکور کے پاس آئی تو اس نے کمال ہوشیاری سے حفظ امن کی کارروائی میں خود مولوی محمد حسین کو بھی لپیٹ لیا اور یہ رپورٹ کی کہ فریقین کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے اس لئے دونوں کی ضمانت ہونی چاہئے اور اس طریق کے اختیار کرنے میں تھانہ دار کی غرض یہ تھی کہ اس کی کارروائی غیر جانبدار سبھی جاوے تاکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسے بلا تامل منظور کر لے چنانچہ تھانہ دار مذکور نے ان ایام میں اپنی ایک مجلس میں برملا کہا کہ ” آج تک تو مرزا بچ جاتا رہا ہے لیکن اب وہ میرے ہاتھ دیکھے گا۔اس کی یہ بات کسی شخص نے حضرت مسیح موعود کو بھی پہنچادی جس پر آپ نے رپورٹ کنندہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور بے ساختہ فرمایا۔” وہ کیا سمجھتا ہے؟ اس کا اپنا ہاتھ کاٹا جائے گا۔اس کے بعد قدرت حق کا تماشہ دیکھو کہ نہ صرف حضرت مسیح موعود اس مقدمہ میں بری کئے گئے بلکہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد شیخ محمد بخش تھانہ دار کے ہاتھ میں ایک زہریلی قسم کا پھوڑا نکلا جس کے درد سے وہ دن رات بیتاب ہو کر کراہتا تھا اور آخر اسی تکلیف میں وہ اس جہان سے رخصت ہوا۔اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود کو مزید فتح یہ حاصل ہوئی کہ