سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 70

پنڈت لیکھرام کی موت اور حضرت ۱۸۹۷ء کا سال اپنے ساتھ غیر معمولی نقل و مسیح موعود کے خلاف مخالفت کا زور :۔حرکت کو لایا۔ابھی اس سال کا آغاز ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے مطابق جو آپ نے ۱۸۹۳ء میں پنڈت لیکھرام کی ہلاکت کے بارے میں کی تھی جس کا ذکر او پرگزر چکا ہے۔۶ / مارچ کو پنڈت لیکھرام کسی نا معلوم آدمی کے ہاتھ سے لا ہور میں مارے گئے اور عجیب یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی لیکھرام کی موت عین عید کے دسرے دن واقع ہوئی۔اس واقعہ سے ہندوستان بھر کی ہندو قوم میں حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک خطر ناک اشتعال کی صورت پیدا ہوگئی اور پیشگوئی سے مرعوب ہونے کی بجائے ہندوؤں نے یہ الزام لگا نا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب نے پنڈت لیکھرام کو خود سازش کر کے قتل کروا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے خلاف بڑے زور کے ساتھ اعلان کیا اور قسم کھا کھا کر بیان کیا کہ اس واقعہ میں میرا اس بات کے سوا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں کہ خدا نے مجھے اپنے الہام کے ذریعہ یکھرام کی ہلاکت کی خبر دی تھی مگر آریہ صاحبان کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے گورنمنٹ میں رپورٹ کر کے آپ کے مکان کی تلاشی کروائی اور خفیہ پولیس کے آدمی پیشل ڈیوٹی پر لگوائے مگر جب کہ حضرت مسیح موعود کا اس معاملہ میں کوئی دخل ہی نہیں تھا تو کوئی بات ثابت کیسے ہوتی لیکن ہند وصاحبان کی مزید تسلی کے لئے اور ان پر اتمام حجت کی غرض سے آپ نے یہ اعلان کیا اور اس اعلان کو بار بار دہرایا کہ اگر کسی کو یہ شبہ ہے کہ میں نے خود پنڈت لیکھرام کوقتل کروا دیا ہے تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ ایسا شخص میرے مقابل پر کھڑا ہوکر خدا کی قسم کھا جاوے کہ پنڈت لیکھرام کو میں نے قتل کروایا ہے پھر اگر وہ خود ایک سال کے عرصہ کے اندر ہلاک نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور اس صورت میں میں اس کو دس ہزار روپیہ انعام بھی دوں گا اور آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایسے شخص کی ہلاکت ایسے رنگ میں ہوگی جس میں انسانی ہاتھ کا دخل قطعا ممکن نہ ہوتا کہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔لے یہ ایک بہت لے دیکھو اشتہارات ماہ مارچ و اپریل ۱۸۹۷ء ملخص از مجموعه اشتہارات جلد دوم اشتہارات مورخه ۱۵ار مارچ ۱۸۹۷ء صفحه ۵۶ واشتہار مورخه ۶ اسر اپریل ۱۸۹۷، صفحه ۸۰-۸۱ جدید ایڈیشن