سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 63 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 63

۶۳ اس سلسلہ کے شروع ہوتے ہی بعض مخالف علماء نے آپ کو یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ بچے ہیں تو اسلامی طریق کے مطابق ہم سے مباہلہ کر لیں یعنی فریقین ایک دوسرے کے مقابل پر خدا کی قسم کھا ئیں کہ ہمارے یہ یہ عقائد ہیں جنہیں ہم دلی یقین کے ساتھ سچا سمجھتے ہیں لیکن ہمارا مخالف فریق انہیں جھوٹا اور خلاف اسلام قرار دیتا ہے پس اے خدا اب ہم دونوں فریقوں میں سے جو فریق تیری نظر میں جھوٹا ہے تو اس پر لعنت کی مارڈال اور اسے دوسرے کے مقابل میں ذلیل ورسوا کرتا کہ حق و باطل میں فیصلہ ہو جائے اس وقت چونکہ مخالفت کا آغاز ہی تھا اور ابھی عوام الناس کو آپ کے دعوئی اور اس کے دلائل سے اطلاع نہیں تھی اور آپ کے خلاف ابھی تک کفر کے فتویٰ کی بھی اشاعت نہیں ہوئی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی تک آپ کو خدا کی طرف سے مباہلہ کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے آپ نے مباہلہ سے اجتناب فرمایا لیکن جب کفر کا فتویٰ شائع ہو گیا اور آپ کو جمہور علماء نے کافر اور کذاب اور دجال قرار دیا اور اس فتویٰ سے ملک میں عداوت کی آگ بلند ہوگئی اور دوسری طرف آپ کے دعاوی اور دلائل کی بھی کافی اشاعت ہو چکی تو ۱۸۹۲ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک الہام کے ذریعہ آپ کو مباہلہ کی اجازت دی جس پر آپ نے ایک عام اعلان فرما دیا کہ اب جو شخص چاہے میرے سامنے آ کر میرے دعاوی کے بارے میں مباہلہ کر لے اور پھر اسلامی تعلیم کے ماتحت ایک سال کے اندر دیکھ لے کہ خدا کیا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔مگر وہی لوگ جن میں سے بعض مباہلہ کے لئے دعوت دے رہے تھے اب ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور فضول اور خلاف تعلیم اسلام شرائط پیش کر کے پہلو تہی اختیار کی۔اس کے بعد ۱۸۹۶ء میں یعنی اس زمانہ میں جس کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں آپ نے ایک لمبی فہرست مسلمان علماء اور گدی نشینوں کی شائع فرمائی اور ان سب کو نام لے لے کر بلایا کہ اگر تم میں سے کسی میں ہمت ہے تو وہ میرے سامنے آکر مسنون طریق پر مباہلہ کرلے اور آپ نے بڑے غیرت کے الفاظ میں لوگوں کو ابھارا مگر کسی کو آپ کے سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔”اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ