سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 43

۴۳۔درمیان میں جلسہ سالانہ کے آغاز کے ذکر کو ترک کر گیا ہوں۔غالبا بہت سے ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کے مرکز قادیان میں جماعت احمدیہ کا ایک سالانہ اجتماع دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہوا کرتا ہے۔اس کا آغاز ۱۸۹۱ ء میں ہوا تھا جبکہ اس میں ۷۵ اصحاب شریک ہوئے مگر اس اجتماع کا با قاعدہ اجراء۱۸۹۲ء میں ہوا جب کہ جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ میں ۳۲۷ اصحاب شریک ہوئے یا اس کے بعد یہ جلسہ سوائے ایک دو ناغوں کے ہر سال جاری رہا اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد سال بسال بڑھتی گئی حتی کہ آجکل جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد چھپیں تمیں ہزار کے قریب ہوتی ہے جو ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں۔اس سے جماعت کی نسبتی ترقی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔یہ جلسہ مذہبی عبادت کا رنگ نہیں رکھتا مگر اس نے جماعت کی تبلیغی اور تربیتی اور تنظیمی اغراض کے پورا کرنے میں بہت بھاری حصہ لیا ہے۔اس سالانہ اجتماع میں بعض غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب بھی شریک ہوتے ہیں جو عموماً بہت اچھا اثر لے کر جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی مہمان نوازی : اس جگہ یمنی طور پر پیدا کر بھی لا تعلق نہیں ہو گا کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت درجہ مہمان نواز تھی اور جو لوگ جلسہ کے موقعہ پر یا دوسرے موقعوں پر قادیان آتے تھے خواہ وہ احمدی ہوں یا غیر احمدی وہ آپ کی محبت اور مہمان نوازی سے پورا پورا حصہ پاتے تھے اور آپ کو ان کے آرام اور آسائش کا از حد خیال رہتا تھا۔آپ کی طبیعت میں تکلف بالکل نہیں تھا اور ہر مہمان کو ایک عزیز کے طور پر ملتے تھے اور اس کی خدمت اور مہمان نوازی میں دلی خوشی پاتے تھے۔اوائل زمانہ کے آنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مہمان آتا تو آپ ہمیشہ اسے ایک مسکراتے ہوئے چہرہ سے ملتے مصافحہ کرتے۔خیریت پوچھتے۔عزت کے ساتھ بٹھاتے۔گرمی کا موسم ہوتا تو شربت بنا کر پیش کرتے سردیاں ہوتیں تو چائے وغیرہ تیار کروا کے لاتے۔رہائش کی جگہ کا انتظام کرتے اور کھانے وغیرہ کے متعلق مہمان خانہ کے منتظمین کو خود بلا کر تا کید فرماتے کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ایک پرانے صحابی نے جو دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت کے تھے خاکسار مؤلف لے ضمیمہ آئینہ کمالات اسلام ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۳۰،۶۲۹)