سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 426 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 426

۴۲۶ اگر تھوڑے ہیں تو ہمارا کام اس کی نصرت پر شاہد ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم ابھی تک بہت تھوڑے ہیں۔چونکہ جماعت احمد یہ نہ صرف ہندوستان کے ہر حصہ میں بلکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں منتشر صورت میں پھیلی ہوئی ہے اس لئے ہمیں ابھی تک اس کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں ہو سکا۔حضرت مسیح موعود نے اپنی آخر عمر کے قریب اپنی جماعت کا اندازہ چار لاکھ لگایا تھا۔اگر اسی پر قیاس کیا جاوے تو ہماری تعداد اس وقت پندرہ لاکھ کے قریب ہونی چاہئے مگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری یہ تعداد نہیں ہے دراصل حضرت مسیح موعود کے اندازے میں صرف با قاعدہ بیعت شدہ احمدی ہی شامل نہیں تھے بلکہ ایسے لوگ بھی شامل تھے جو دل میں احمدیت کی صداقت کے قائل ہو چکے ہیں مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے اظہار کی ہمت نہیں پاتے اور اس تعریف کے مطابق یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ موجودہ تعداد پندرہ میں لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہو یا اس سے بھی زیادہ ہو۔مگر منظم اور ظاہر میں نظر آنے والی جماعت یقیناً اس سے بہت کم ہے اور اصل علم خدا کو ہے۔ایک اور طریق جماعت کی وسعت اور ترقی کے اندازہ کرنے کا یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے جلسہ کی شرکت سے اندازہ لگایا جائے۔اور یہ مطالعہ ویسے بھی دلچسپ ہے۔سو جماعت کے سب سے پہلے جلسہ سالانہ میں جو ۱۸۹۱ء میں ہوا شریک ہونے والوں کی تعداد ۵ کے تھی اور حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے آخری جلسہ میں جو ۱۹۰۷ء کے دسمبر میں ہوا یہ تعداد دو ہزار سے اوپر تھی لے پھر اس کے بعد حضرت خلیفہ اول کا زمانہ آیا تو آپ کے زمانہ کے آخری جلسہ میں جو ۱۹۱۳ء کے دسمبر میں ہوا جلسہ کے مہمانوں کی تعداد تین ہزار سے اوپر تھی۔ہے اس کے بعد ہمیں آخری اعداد وشمار ۱۹۳۸ء کے جلسہ سالانہ کے حاصل ہیں جن میں جلسہ کے مہمانوں کی تعداد میں ہزار سے او پر تھی۔سے گو یہ حساب بھی بعض بہت سے غلطی کا امکان رکھتا ہے مگر بہر حال نسبتی ترقی کو دیکھنے کے لئے یہ ایک فی الجملہ اچھا معیار ہے۔اب رہا دوسرا سوال کہ اس وقت جماعت احمد یہ کہاں کہاں پائی جاتی ہے۔سو یہ سوال کئی لحاظ تلخیص از بدر مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ نمبر ۲ کالم نمبر ۲ تلخیص از الفضل مورخہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ نمبرا کالم نمبر ۳ تلخیص از الفضل مورخه ۳۱ دسمبر ۱۹۳۸، صفحه ۸