سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 409

۴۰۹ کی اطلاع ملی تو آپ نے فوراً اس ہدایت کو منسوخ کروا دیا اور فرمایا کہ یہ طریق مناسب نہیں کیونکہ جب گورنمنٹ کے افسر تسلی ولاتے ہیں کہ ہم ہرقسم کا انتظام خود کریں گے تو ہمیں اس قسم کا اقدام کر کے کوئی نام نبی نہیں پیدا کر نی چاہئے۔لیکن حضرت خلیفہ مسیح کی طرف سے اس صریح ہدایت کے جاری ہو جانے کے باوجود گورنمنٹ کے اس طبقہ نے جو جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے ہوشیار ہوکر اس پر ہاتھ ڈالنا چا ہتا تھا نظر مذکور کی سابقہ ہدایت کو آڑ بنا کر اور اسے غلط طور پر حضرت خلیفہ مسیح کی طرف منسوب کر کے آپ کے خلاف ۱۷ راکتو بر ۱۹۳۴ء کو ایک نہایت نامعقول اور سراسر گستاخانہ نوٹس جاری کر دیا کہ تم اس قسم کے اقدام سے مجتنب رہو ورنہ ہم قانونی کارروائی کریں گے۔اور اس طرح ایک آنی فانی ڈرامہ کے رنگ میں احمدیت کے خلاف وہ ساری طاقتیں میدان عمل میں جمع ہوگئیں جن کا ہم اس مضمون کے شروع میں ذکر کر چکے ہیں۔یعنی اول احرار جو ایک فیصلہ شدہ پروگرام کے ماتحت قادیان پر حملہ آور تھے اور اس وقت انہی کے ساتھ مسلمانوں کا وہ دوسرا طبقہ بھی شامل تھا جو احمدیت کے خلاف ہوشیار ہو کر اپنی معاندانہ کارروائیوں کو شروع کر چکا تھا۔اور دوسرے حکومت کا وہ حصہ جواب احرار کا نفرنس کے موقعہ پر بے نقاب ہو کر سامنے آ گیا۔اس کے بعد کچھ عرصہ تک کی تاریخ سیاہ بادلوں کی گرجوں اور بجلی کی مہیب کڑکوں میں سے ہوکر گزرتی ہے جس کا کسی قدر اندازه ان اخباروں کے فائلوں سے لگ سکتا ہے جو ان ایام میں اس تاریخ کو قلم بند کرنے میں مصروف تھے مگر اصل اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ان دنوں میں ایک طرف تو حضرت خلیفہ اسیح کے خطبات کو سنا اور دوسری طرف قادیان میں احرار اور افسران حکومت کی کارروائیوں کو خود اپنی نظر سے ملاحظہ کیا۔ان ایام کی تاریخ اگر ایک طرف نہایت درد ناک ہے تو دوسری طرف نہایت شاندار بھی ہے۔درد ناک اس لئے کہ مخالف طاقتوں نے نہایت اوچھے ہتھیاروں پر اتر کر جماعت کو ہر رنگ میں دکھ پہنچانے اور ذلیل کرنے اور نیچے گرانے کی کوشش کی۔جس کی تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں اور شاندار اس لئے کہ حریف کی ہر چوٹ نہ صرف