سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 408 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 408

۴۰۸ میں خان بہادرمیاں سر فضل حسین صاحب مبر گورنمنٹ آف انڈیا اپنی میعاد کوختم کر کے ممبری کے عہدہ کو خالی کرنے والے تھے اور ان کی جگہ کسی مسلمان نے مقرر ہونا تھا۔اور گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ اس عہدہ پر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کو مقرر کرے اس لئے احرار اور ان کے رفقاء نے اس تجویز کو بھی اپنا آلہ کار بنا کر نہ صرف اس کی مخالفت میں اخباری پراپیگنڈا شروع کر دیا بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف پرانے کفر کے فتویٰ کو از سر نو تازہ کر کے ملک کے طول وعرض میں یہ آگ لگا دینی چاہی کہ چونکہ احمدی لوگ مسلمان نہیں ہیں اس لئے کوئی احمدی کسی حیثیت میں بھی مسلمانوں کا نمائندہ نہیں بن سکتا۔چوہدری صاحب موصوف کے متعلق تو بعض غیر معمولی حالات کی وجہ سے ان لوگوں کی تجویز کارگر نہ ہو سکی مگر اس ذریعہ سے انہوں نے ملک کے ایک طبقہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک زہریلا ماحول پیدا کر دیا۔قادیان میں بھی انہوں نے آہستہ آہستہ مقامی غیر احمدی اور غیر مسلم آبادی کے ایک حصہ کو اپنے ساتھ ملا کر اور کچھ حصہ گردونواح کی آبادی کا بھی اپنے ساتھ جوڑ کر فتنے کے شرارے پیدا کرنے شروع کر دیئے اور جب کچھ اثر قائم کر لیا تو اس اثر کو وسیع کرنے کے لئے انہوں نے اکتوبر ۱۹۳۴ء کے تیسرے ہفتہ میں قادیان میں ایک بھاری کا نفرنس منعقد کرنے کی تجویز کی اور اس کانفرنس کے حق میں بڑے زور سے پراپیگنڈا کیا گیا۔چونکہ نہ صرف قرائن سے اور نہ صرف ان لوگوں کی سابقہ تاریخ سے بلکہ بعض معین ذرائع سے بھی یہ معلوم ہو چکا تھا کہ اس کا نفرنس کے منعقد کرنے میں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کسی طرح قادیان میں ایک بلوہ کی صورت پیدا کر کے جماعت احمدیہ کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا جاوے اس لئے ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر جماعت کے ایک ناظر نے اپنی ذمہ واری پر حضرت خلیفہ اسی کی اطلاع اور اجازت کے بغیر قریب قریب کی احمد یہ جماعتوں کو پیغام بھجوادیا کہ کانفرنس کے ایام میں احرار کی طرف سے اس اس طرح کے خطرہ کا امکان ہے اس لئے آپ لوگ تیار رہیں تا کہ حسب ضرورت وقت پر پہنچ کر شرارت کا انسداد کر سکیں۔جب حضرت خلیفتہ اسیح کو اس تجویز