سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 404 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 404

۴۰۴ کو ہوشیار کر دو کہ میری رحمت کے سایہ میں پلنے والوں کے ساتھ یہ کھیل اچھا نہیں۔فرشتوں نے تقدیر کے نوشتوں میں نظر ڈالی اور حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلی ہوئی دوز بر دست تقدیریں چھانٹ کر الگ کر لیں۔ایک تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ جب ہمارے دو عاشق اور فدائی کا بل کی سرزمین میں ایک خود بین خاندان کے حکم سے پتھروں کی بارش سے شہید کئے جائیں گے تو ہم ایک وحشی را ہرن اور لٹیرے کے ہاتھ سے اس خاندان کی صف لپیٹ دیں گے اور اس کے بعد ایک نیک دل انسان کو بستر مرض سے اٹھا کر افغانستان کا نجات دہندہ بنائیں گے اور ہماری رحمت کے ہاتھ کا چھینٹا لے کر ملک میں پھر امن و امان قائم کرے گا اور ایک سادہ ” نادر خان پٹھان کی حیثیت سے اٹھ کر ” نادر شاہ کا ذی عزت خطاب پائے گا۔مگر موت تو ہر بشر کے ساتھ لکھی ہوئی ہے پس جب اس نیک دل بادشاہ کو کوئی خودسرنو جوان قتل کر دے گا تو اے آسمان والو تم آسمان پر اور اے زمین والو تم زمین پر کہنا کہ:۔آہ نادر شاہ کہاں گیا“ یہ وہ مخفی تقدیر تھی جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود پر ۱۹۰۵ء میں ظاہر فرمائی لے اور گواس وقت ابھی امان اللہ خان بھی کابل کے تخت پر نہیں آیا تھا اور نادر خان بھی گمنامی کی حالت میں پڑا تھا مگر خدائی تقدیر نے بہر حال پورا ہو کر رہنا تھا سو آہستہ آہستہ ۱۹۳۳ء میں آ کر اس مخفی تقدیر کے سارے پہلو کھل گئے اور خدا نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری فرمائی کہ امیر حبیب اللہ خان اور امیر امان اللہ خان کا خاندان تخت کا بل سے محروم ہو گا اور اس کے بعد ایک شخص نادر خان نادر شاہ کا لقب پا کر تخت پر متمکن ہو گا مگر ایک بد بخت انسان اسے گولی کا نشانہ بنادے گا اور اس وقت زمین اور آسمان دونوں پکار اٹھیں گے کہ آہ نادر شاہ کہاں گیا اور خدا نے اس پیشگوئی کو۱۹۳۳ء میں آکر اس لئے پورا فرمایا کہ تا احرار اور ان کی پشت و پناہ طاقتوں کو بتادے کہ میں زمین و آسمان کا خدا ہوں اور دنیا کی حکومتیں اور حکومتوں کے تخت میرے ہی تصرف میں ہیں۔پس زمین پر میرے ایک بظاہر کمزور اور غریب بندے کو دیکھ کر اس پر حملہ کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ وہ اکیلا نہیں بلکہ میں اس کے لے دیکھو تذکرہ صفحہ ۴۶۱ مطبوع ۲۰۰۴ء سے اس پیشگوئی کی تفصیل کے لئے دیکھو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کا ٹریکٹ ایک تازہ نشان“