سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 402 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 402

۴۰۲ اہل کشمیر نے اپنے پبلک جلسوں میں امام جماعت احمد یہ زندہ باد اورصدرکشمیر کمیٹی زندہ باد کے فلک بوس نعرے لگائے اور اپنی عقیدت اور شکر گزاری کے پھول آپ کے قدموں پر لا کر رکھے۔اس وقت آپ کشمیر اور پنجاب کے تسلیم شدہ ہیرو تھے اور دنیا کی نظریں خیرہ ہو کر آپ کی طرف اٹھ رہی تھیں کہ اس شخص نے اس قدر قلیل عرصہ میں اور ایسے مخالف حالات کے ہوتے ہوئے کیا کا یا پلٹ دی ہے مگر یہی وہ وقت تھا کہ جب اندر ہی اندر وہ زمینی اور آسمانی طاقتیں حرکت میں آ رہی تھیں جن کی طرف ہم نے او پر اشارہ کیا ہے لیکن اس کے ذکر کا موقع آگے آتا ہے۔جب کشمیر اور پنجاب میں آپ کا نام شہرت کے آسمان پرستارہ بن کر چمک رہا تھا تو اس وقت مسلمانوں کی احرار پارٹی اس پیچ و تاب میں پڑی ہوئی تھی کہ خود انہی کے ہم عقیدہ لوگ ان کو چھوڑ کرنعوذ باللہ اک بدعتی فرقہ کے امام کے قدموں پر گر رہے ہیں اور جب ان کے لیڈ رکشمیر سے ذلیل ہو کر واپس آئے اور اہل کشمیر نے ان کو حضرت خلیفہ اسیح کے نمائندوں کے مقابلہ پر دھتکار دیا تو وہ وہاں سے اس تہیہ کے ساتھ نکلے کہ اب خاک بدہنش احمدیت کو مٹا کر چھوڑیں گے۔یہ اس فتنہ کی ابتدا ہے جو بعد میں احرار ہند نے جماعت احمدیہ کے خلاف بر پا کیا مگران کا فوری اقدام یہ تھا کہ کشمیر کے کام میں لوگوں کی توجہ کو حضرت خلیفہ مسیح کی طرف سے ہٹا کر دوسری طرف لگا دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے عین اس وقت جبکہ ریاست کشمیر حضرت خلیفتہ اسیح کے سامنے پس پردہ اپنے ہتھیار ڈال رہی تھی مسلمانانِ پنجاب میں اس بات کا چرچا کیا کہ ہمیں کشمیر میں جتھے لے جانے چاہئیں۔اس پر بعض سمجھدار لیڈروں نے انہیں روکا اور سمجھایا کہ یہ وقت جتھوں کا نہیں اور جنگ اپنے مبارک اختتام کو پہنچ رہی ہے پس بنے بنائے کام کو بگاڑنا اور پیچیدگیاں پیدا کرنا مناسب نہیں۔مگر ان لوگوں کی نیت کچھ اور تھی۔انہوں نے ایک نہیں سنی اور جتھوں کی تجویز کا اعلان کر کے مسلمانوں کے ناسمجھ طبقے کو جو حضرت خلیفہ امسیح کے پراپیگنڈے کی وجہ سے پہلے سے قوت عمل سے لبریز ہو چکا تھا حرکت میں لے آئے اور جب یہ روایک دفعہ حرکت میں آگئی تو چونکہ اس قسم کی باتوں میں عامیانہ دماغ خاص تسلی اور