سلسلہ احمدیہ — Page 30
۳۰ اپنے اس دعوئی کا اعلان کیا ہے جس پر مسلمانوں اور عیسائیوں ہر دو میں ایک خطر ناک ہیجان پیدا ہو گیا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مخالفت کی آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان اور عیسائی دونوں کئی صدیوں سے یہ عقیدہ بنائے بیٹھے تھے کہ حضرت مسیح ناصری جو ساڑھے انیس سو سال گزرے کہ ملک فلسطین میں پیدا ہوئے تھے وہ اب تک آسمان میں خدا کے پاس زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں جبکہ فتنوں اور فسادوں کا زور ہوگا وہ دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور ان کے ذریعہ زمین پر پھر خدا کی حکومت قائم ہو گی۔مگر اس حد تک مشترک عقیدہ رکھنے کے بعد ان ہر دو قوموں کے عقائد کی تفصیل میں اختلاف تھا یعنی مسلمان تو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ عیسیٰ رسول اللہ فوت نہیں ہوئے بلکہ اللہ نے انہیں صلیب سے بچا لیا تھا اور پھر وہ زندہ ہی آسمان پر اٹھا لئے گئے اور آخری زمانہ میں وہ زمین پر دوبارہ نازل ہو کر اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کریں گے اور یہ غلبہ قہری اور جلالی ہوگا اور اس وقت جو قو میں اسلام کو قبول نہیں کریں گی وہ سب مٹادی جاویں گی اور دوسری طرف عیسائی یہ خیال کرتے تھے کہ ان کے خداوند مسیح صلیب پر فوت تو ہو گئے تھے مگر ان کی یہ موت عارضی موت تھی جو انہوں نے دنیا کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے خود اپنی مرضی سے اختیار کی تھی چنانچہ اس موت کے بعد وہ دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے اور آخری زمانہ میں پھر زمین پر اتریں گے اور مسیحیت کو تمام دنیا میں قائم کر دیں گے اور ان کی یہ دوسری آمد پہلی آمد کی نسبت زیادہ شاندار اور جلالی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔گویا دونوں قومیں اپنے اپنے مذہبی اصول کے ماتحت حضرت مسیح کی آمد ثانی کی منتظر تھیں اور انہیں اپنا نجات دہندہ خیال کرتی تھیں اور ان کے جلالی نزول کے متعلق دونوں نے عجیب عجیب نقشے جمارکھے تھے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی کی وفات کا اعلان فرمایا اور اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں اور آسمان پر نہیں گئے اور یہ کہ ان کی دوسری آمد کا وعدہ خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے کیونکہ آپ حضرت مسیح ناصری کی خوبو پر اور ا دیکھو رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام و اشتہار مورخه ۲۶ / مارچ ۱۸۹۱ء