سلسلہ احمدیہ — Page 385
۳۸۵ ایڈیٹ کوگرفتار کر کےاس پر مقدمہ چلا یا او قرار واقعی سزا دلائی۔مگر حضرت خلیفتہ اسیح کا مقصد جو ایک اصولی رنگ رکھتا تھا محض ایک فرد کی سزا سے پورا نہیں ہوسکتا تھا۔اس لئے آپ نے حکومت سے اس مطالبہ کو جاری رکھا کہ قانون رائج الوقت میں کوئی ایسی دفعہ زائد ہونی چاہئے جس سے آئندہ اس قسم کی گندی اور اشتعال انگیز تحریروں کا سلسلہ قطعی طور پر بند ہو جائے۔اس غرض کے لئے آپ ۱۹۲۷ء کے موسم گرما میں خود شملہ تشریف لے گئے اور نہ صرف ملک کے نامور لیڈروں کے ساتھ مل کر ان پر اس مسئلہ کی اہمیت کو واضح کیا بلکہ حکومت کے افسروں پر بھی زور ڈالا کہ وہ اس معاملہ میں قانون کی ضروری ترمیم کی طرف فوری توجہ دیں۔دوسری طرف آپ نے اپنے لندن کے مبلغ مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم اے کے ذریعہ انگلستان میں بھی کوشش کر کے وہاں کے پریس میں یہ سوال اٹھا دیا کہ موجودہ قانون ناقص ہے اور اسے جلد بدلنا چاہئے اور پارلیمنٹ میں بھی بعض ممبروں کے ذریعہ سوالات کروائے گئے۔ان ساری کوششوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ حکومت ہند نے موجود قانون کے نقص کو محسوس کر کے تعزیرات ہند میں ایک نئی دفعہ ایزاد کر دی جس کی وجہ سے مذہبی پیشواؤں کی عزت کی حفاظت کا قانون پہلے سے زیادہ معین صورت اختیار کر گیا۔یہ دفعہ اب بھی پوری طرح تسلی بخش نہیں ہے مگر بہر حال وہ اس معاملہ میں اصلاح کی طرف ایک معین قدم کا رنگ رکھتی ہے جسے بعد میں زیادہ وسیع اور زیادہ پختہ کیا جا سکتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی ان مخلصانہ اور دردمندانہ کوششوں کو مسلمانوں کے سمجھدار طبقہ نے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور مختلف اسلامی اخباروں میں پے در پے تعریفی مضامین شائع ہوئے۔لے :- مسلمانوں کی اقتصادی پا بحالی کے لئے جدو جہد :۔۱۹۲۷ء کے بین الاقوام ہیجان میں حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے مسلمانوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی کہ ان کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دوسری قوموں کے مقابل پر ان کی اقتصادی حالت سخت خراب ہے اور انہیں دوسروں کے مثلاً دیکھو اخبار انقلاب مورخه ۳ / اگست ۱۹۲۷ ء اور اخبار مشرق مورخہ یکم ستمبر ۲۲ ستمبر ۱۹۲۷ء اور اخبار ہمد ردمورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۲۷ء اور اخبار در نجف مورخه ۱۸/اکتوبر ۱۹۲۷ء