سلسلہ احمدیہ — Page 379
غرض و غایت اور مقاصد کے متعلق نہایت لطیف تبلیغ فرمائی۔یہ پیغام بہت پسند کیا گیا اور انگریزی اخباروں نے اس کے لمبے لمبے اقتباس اپنے کالموں میں شائع کئے۔سفارت عراق :۔حضرت خلیفتہ المسیح کی قیادت کے ماتحت احمدیت کا بڑھتا ہوا اثر ساتھ ساتھ مخالفت کی روکو بھی تیز کرتا جاتا تھا اور اب یہ مخالفت افراد سے نکل کر حکومتوں کے پروگرام میں بھی داخل ہو رہی تھی چنانچہ جس زمانہ کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں اس میں عراق کی حکومت نے احمدیت کی تبلیغ کو اپنے علاقہ میں روک دیا تھا۔بے شک ابھی تک اس ملک میں ہمارا کوئی باقاعدہ مبلغ نہیں تھا مگر چونکہ ہر احمدی ایک آنریری مبلغ ہوتا ہے اس لئے عراق کے ہندوستانی احمدی اپنے طور پر تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔ان کے خلاف حکومت عراق نے اقدام کر کے انہیں تبلیغ کرنے سے روک دیا بلکہ پرائیویٹ گھروں میں بھی ہر قسم کا اجماع کرنے پر پابندیاں لگادی گئیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح نے حکومت ہند کے ذریعہ کوشش فرمائی کہ کسی طرح یہ روکیں دور ہو جائیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔بالآخر آپ نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اس وقت فلسطین میں تھے ہدایت فرمائی کہ وہ ہندوستان واپس آتے ہوئے عراق کے رستے آئیں اور حکومت عراق کے ارباب حل وعقد سے مل کر کوشش کریں کہ یہ پابندیاں اٹھادی جائیں چنانچہ شاہ صاحب موصوف اپریل ۱۹۲۶ء میں عراق پہنچے اور خدا نے ان کی کوشش میں ایسی برکت دی کہ حکومت عراق نے ان پابندیوں کو اٹھا دینا منظور کر لیا۔یہ ایک بہت شاندار کامیابی تھی کیونکہ اس کے ذریعہ نہ صرف تبلیغ کا ایک بند شدہ دروازہ کھل گیا بلکہ گویا احمدیت کے اثر کو اس حد تک تسلیم کر لیا گیا کہ وہ حکومتوں کے سامنے سفارت کے رنگ میں اپنے معاملات پیش کر کے تصفیہ حاصل کرے۔احمدی مستورات کی تنظیم و تربیت:۔عورتیں قوم کا آدھا دھڑ ہوتی ہیں بلکہ بعض لحاظ سے ان کا کام مردوں سے بھی زیادہ ذمہ داری کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ اٹھانے والے نونہال انہی کی گودوں میں پرورش پاتے ہیں اسی لئے مقدس بانئے اسلام نے لڑکیوں کی تربیت پر خاص زور