سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 378

مسجد لندن کے افتتاح کے لئے تشریف لائے ہیں مگر اس کے بعد ایسے پر اسرار حالات پیدا ہونے لگے کہ شاہزادہ فیصل برملا انکار کرنے کے بغیر پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے اور گو آخر وقت تک انہوں نے انکار نہیں کیا مگر عملاً تشریف بھی نہیں لائے۔ان کے تامل کو دیکھ کر درد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح سے بذریعہ تارا جازت لے رکھی تھی کہ اگر وہ نہ آئیں تو خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب مسجد کا افتتاح کر دیں۔چنانچہ جب فیصل صاحب نہ پہنچے تو درد صاحب نے مسجد کا افتتاح خان بہادر سرعبدالقادر صاحب کے ذریعہ کروالیا جوان ایام میں لیگ آف نیشنز کی شرکت کے لئے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت میں ولایت گئے ہوئے تھے مگر شاہزادہ فیصل کی آمد آمد کا ولایت کے اخباروں میں اس قدر کثرت کے ساتھ چرچا ہو چکا تھا کہ لوگوں نے ان کے نہ آنے کو بہت اچنبھا سمجھا اور واقف کارلوگ تاڑ گئے کہ اس عملی انکار کے پیچھے اصل راز کیا مخفی ہے۔یا یہ راز یہی تھا کہ بعض مسلم اور غیر مسلم حلقوں نے اس بات کو دیکھ کر کہ جماعت احمدیہ زیادہ اہمیت اختیار کر رہی ہے سلطان ابن سعود کو بہکا دیا تھا کہ ان کے صاحبزادہ صاحب مسجد احمدیہ کی افتتاحی رسم سے مجتنب رہیں اور ان کے دل میں یہ خیال بھی پیدا کر دیا گیا تھا کہ چونکہ مسلمان علماء کا ایک معتد بہ حصہ جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے اس لئے مسجد احمدیہ کے افتتاح میں شاہزادہ فیصل کی شرکت سے اسلامی ممالک میں سلطان کے متعلق برا اثر پیدا ہو گا بہر حال خواہ اصل وجہ کچھ بھی ہو شاہزادہ فیصل کی شرکت سے جو فائدہ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو سکتا تھا وہ پھر بھی ہو گیا اور وہ یہ کہ ولایت کے اخباروں میں نہایت کثرت کے ساتھ مسجد احمد یہ اور جماعت احمدیہ کی شہرت ہوگئی بلکہ ابتدائی اقرار اور بعد کے انکار نے اس شہرت کو اور بھی نمایاں کر دیا مگر خود شاہزادہ موصوف کی یہ بدقسمتی ضرور ہے کہ انہوں نے ایک اہم دینی خدمت سے جس کی یاد دنیا میں قیامت تک رہنے والی تھی اپنے آپ کو محروم کر دیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ سلطان ابن سعود جیسے بیدار مغز بادشاہ نے بعد میں اپنے خیالات میں ضرور تبدیلی فرمائی ہوگی۔افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح نے جو ان ایام میں ڈلہوزی پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے ایک لمبا پیغام تار کے ذریعہ لندن بھیجوایا جس میں اہل مغرب کو خطاب کر کے اسلام اور احمدیت کی کے افتتاح مسجد لندن کے مفصل حالات کیلئے دیکھو کتاب تاریخ مسجد فضل لندن مصنفہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب