سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 377 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 377

۳۷۷ تا کہ اس تحریک کے حالات سے ذاتی تعارف پیدا کر سکے جو جزائر شرق الہند میں اس قدر زور پکڑ رہی ہے۔چنانچہ وہ ۱۹۳۰ء میں قادیان آیا اور حضرت خلیفہ اسی سے ملا اور بہت اچھا اثر لے کر آگے گیا۔اب سماٹرا کے علاوہ جاوا میں بھی ۱۹۳۱ء سے ایک علیحدہ دار التبلیغ قائم ہو چکا ہے اور دونوں جزیروں میں احمدیت کا اثر سرعت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے چنانچہ یہاں کے احمدیوں نے اس غرض سے کہ خود ان کے اپنے ہم وطن نو جوان احمدیت کے مبلغ بن سکیں اپنے متعدد طالب علموں کو قادیان بہموار کھا ہے جہاں وہ سلسلہ کی دینی درسگاہوں میں تعلیم پاتے ہیں اور اپنے کورس کو مکمل کر کے اسلام اور احمدیت کے لعم بردار بنیں گے۔ان طالب علموں میں سماٹرا ، جاوا ، سیلی بیز اور بور نیوسب کے باشندے شامل ہیں۔تعمیر و افتتاح مسجد لندن :۔یہ ذکر گذر چکا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ۱۹۲۴ء میں اپنے سفر ولایت کے دوران میں مسجد لندن کی بنیاد رکھی تھی مگر چونکہ اس وقت بعض ضروری سامان مہیا نہیں ہو سکے تھے اس لئے مسجد کی بقیہ تعمیر کچھ عرصہ تک ملتوی رہی۔بالآ خر ۱۹۲۵ء میں اس کا کام شروع کیا گیا اور ۱۹۲۶ء میں یہ خدا کا گھر اپنی تکمیل کو پہنچا۔اس وقت مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم اے لندن کے دارالتبلیغ کے انچارج تھے۔درد صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح کی ہدایت کے ماتحت بادشاہ فیصل ملک عراق سے درخواست کی کہ وہ اپنے لڑکے شہزادہ زید کو اجازت دیں کہ وہ ہماری مسجد کا افتتاح کریں اور جب اس کے جلد بعد شاہ عراق خود یورپ گئے تو ان سے تحریک کی گئی کہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خود مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لائیں مگر انہوں نے اس درخواست کو ٹال دیا۔اس کے بعد سلطان ابن سعود ملک حجاز کی خدمت میں تار دی گئی کہ وہ اپنے کسی صاحبزادہ کو اس کام کے لئے مقرر فرمائیں اور انہوں نے تار کے ذریعہ اس درخواست کو منظور کیا اور اپنے ایک فرزند شاہزادہ فیصل کو اس غرض کے لئے ولایت روانہ کر دیا جب شاہزادہ موصوف لندن پہنچے تو درد صاحب کے انتظام کے ماتحت ان کا نہایت شاندار استقبال کیا گیا اور اخباروں میں دھوم مچ گئی کہ وہ