سلسلہ احمدیہ — Page 376
فلسطین میں پہنچ کر مولوی جلال الدین صاحب نے حضرت امیر المومنین کے حکم سے اپنے دائر ہ تبلیغ میں مصر کو بھی شامل کر لیا اور اپنے وقت کو تقسیم کر کے دونوں ملکوں میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا اور خدا کے فضل سے ہر دو علاقوں میں نمایاں کامیابی ہوئی چنانچہ اس وقت ان دونو ملکوں میں مخلص اور مستعد جماعتیں قائم ہیں اور فلسطین میں تو جماعت کی اپنی مسجد اور مدرسہ بھی ہے اور ایک ماہوار رسالہ البشری بھی نکلتا ہے اور ایک مختصر سا پریس بھی قائم ہے۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ مصر میں اس سے قبل شیخ محموداحمد صاحب عرفانی کے ذریعہ احمدیت کا بیج بویا جا چکا تھا۔شیخ صاحب ۱۹۲۲ء میں ابتداء طلب علم کے لئے مصر گئے تھے مگر اس کے بعد وہاں تبلیغ میں مصروف ہو گئے اور کئی سال قیام کر کے اچھا کام کیا۔دار التبلیغ سماٹرا و جاوا : ۱۹۲۵ء میں ہی کا ایک اور اہم من سائر میں قائم کیا گیا اور ہندوستان کے مشرقی علاقہ کی ناکہ بندی کا آغاز ہو گیا۔اس مہم کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح کی مردم شناس آنکھ نے مووی رحمت علی صاحب کو منتخب کیا۔مولوی صاحب مولوی فاضل تھے مگر سادہ مزاج رکھتے تھے اور بعض حلقوں میں خیال کیا جاتا تھا کہ شاید وہ اس نازک کام میں کامیاب نہ ہوسکیں مگر خدا کے فضل سے اور حضرت خلیفہ امسیح کی روحانی توجہ کے طفیل اس مشن نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بعض لحاظ سے دوسرے سب مشنوں کو مات کر گیا۔سماٹرا اور اس کے ساتھ کے جزائر جاوا اور سیلی بیز اور بور نیو وغیرہ میں مسلمانوں کی آبادی ہے جو زیادہ تر ہالینڈ کی حکومت کے ماتحت ہیں۔یہ لوگ مذہب میں خوب جوشیلے ہیں اور سیر و سیاحت کا بھی شوق رکھتے ہیں مگر چونکہ مذہبی تعلیم کی کمی ہے اس لئے عیسائی مشنریوں کے جال میں جلد پھنس جاتے رہے ہیں اور مولوی صاحب کے جانے سے قبل بہت سے لوگ عیسائی ہو چکے تھے مگر مولوی صاحب کے جانے کے بعد خدا کے فضل سے یہ پتسمہ کی رو بہت کمزور پڑ گئی اور کئی لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا اور آہستہ آہستہ اس علاقہ میں احمدیت کا اثر اس قدر وسیع ہو گیا کہ جب ایک ڈچ افسر مسٹری انڈریا سا اپنی حکومت کی طرف سے جدہ میں قونصل مقرر ہوکر سماٹرا سے جانے لگا تو ڈچ حکومت نے اسے یہ ہدایت دی کہ وہ رستہ میں قادیان بھی ہوتا جاوے