سلسلہ احمدیہ — Page 375
۳۷۵ دیا۔چنانچہ مولوی ظہور حسین صاحب تو ملک میں داخل ہوتے ہی گرفتار کر لئے گئے اور ایک لمبا عرصہ روی جیل خانوں میں رہ کر اور انتہائی تکلیفیں اٹھا کر جن کو سن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں حکومت برطانیہ کی وساطت سے رہا ہو کر واپس آئے مگر مولوی صاحب نے جیل کی تاریک کوٹھریوں میں بھی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور بعض ساتھ کے قیدیوں کو صداقت کا شکار بنالیا۔دوسرے صاحب مولوی محمد امین خان ہوشیاری کے ساتھ بیچ کر ملک کے اندر جا گھسے اور کچھ عرصہ روس میں خفیہ خفیہ رہ کر واپس آگئے۔دمشق فلسطین و مصر کا دار التبلیغ : جب حضرت خلیفہ مسیح ولایت سے واپس آئے تو آپ نے اپنے وعدہ کے موافق پہلا کام یہ کیا کہ ۱۹۲۵ء کے اوائل میں دو مبلغ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو ملک شام کی طرف روانہ کیا جنہوں نے دمشق میں اپنا مرکز قائم کر کے کام شروع کر دیا اور گو شروع شروع میں سخت مخالفت ہوئی لیکن بالآخر ایک طبقہ مائل ہونے لگا اور آہستہ آہستہ لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف مبذول ہونی شروع ہوئی۔شاہ صاحب تو دو سال کے قیام کے بعد ۱۹۲۶ء میں حضرت خلیفہ اسیح کے حکم سے واپس آگئے مگر مولوی جلال الدین صاحب و ہیں ٹھہرے اور ہمت اور استقلال کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے مگر اس عرصہ میں وہاں کے علماء کا طبقہ ملک میں احمدیت کے پاؤں جمتے دیکھ کر سخت برافروختہ ہو گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے مبلغ مولوی جلال الدین صاحب پر ایک شخص نے خنجر سے حملہ کر کے انہیں بُری طرح زخمی کر دیا۔یہ اللہ کا فضل تھا کہ زخم مہلک ثابت نہیں ہوا اور مولوی صاحب ایک لمبے علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے لیکن اس کے بعد انہیں شام کی فرانسیسی حکومت نے علماء کی شورش کی وجہ سے دمشق میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی چنانچہ حضرت خلیفۃ اسیح کے حکم سے مولوی جلال الدین صاحب دمشق سے نکل کر فلسطین میں آگئے اور حیفا میں اپنا مرکز قائم کر لیا۔یہ مارچ ۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے۔مگر شمس صاحب کے دمشق سے چلے آنے سے قبل خدا کے فضل سے شام میں ایک مختصری جماعت قائم ہو چکی تھی جواب تک ہے اور ترقی کر رہی ہے۔