سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 374 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 374

۳۷۴ دکھایا جو دنیا میں بہت کم لوگ دکھاتے ہیں۔جب اس خبر کی اطلاع حضرت خلیفہ اسی کو ولایت میں تار کے ذریعہ بھجوائی گئی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا مگر دوسری طرف آپ کو اس خیال سے خوشی بھی ہوئی کہ آپ کے ایک جان نثار نے ایمان کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔ولایت کے اخباروں نے اس حادثہ پر بڑے سخت نوٹ لکھے اور بعض انصاف پسند انگریزوں نے اس پر ایک احتجاجی جلسہ بھی کیا اور انگریزوں پر ہی حصر نہیں بلکہ ساری انصاف پسند دنیا میں اس ظالمانہ کارروائی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔مگر افسوس ہے کہ خودا رباب کا بل پر اس کا اثر یہ تھا کہ جب اس کے تھوڑے عرصہ بعد ہی ہمارا ایک وفد کابل کے ایک ذمہ وار وزیر سے ملا جو ہندوستان میں سے گزر رہا تھا تو اس نے الٹا ہم پر گلہ کیا کہ ایک معمولی سی بات تھی کہ ایک آدمی اپنے بعض خیالات کی وجہ سے مار دیا گیا اس پر آپ لوگوں نے اتنا واویلا کر کے ہمارے ملک کو بد نام کر دیا۔اس واقعہ سے اس ذہنیت کا اندازہ ہوسکتا ہے جو بد قسمتی سے آجکل کے مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔مگر ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت اس معاملہ میں زیادہ آزادانہ اور زیادہ منصفانہ خیالات رکھتی ہے۔بخار اور ایران کے تبلیغی وفد : ولایت جانتے ہوئے حضرت طلیقہ مسیح نے دو نئے تبلیغی وفد روانہ کئے تھے یعنی ایک مبلغ تو آپ نے ایران کی طرف روانہ کیا اور دو مبلغ روس کے علاقہ بخارا کی طرف روانہ فرمائے۔ایران جانے والے بزرگ سلسلہ کے ایک پرانے فدائی شاہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانوی تھے جو اسی دن قادیان سے روانہ ہوئے جس دن کہ حضرت خلیفہ ایح ولایت کے لئے روانہ ہوئے اور دوسرا وفد جو مولوی ظہور حسین صاحب اور مولوی محمد امین خان صاحب پر مشتمل تھا وہ بھی حضرت خلیفہ المسیح کے ساتھ ہی ماہ جولائی ۱۹۲۴ء میں بخارا کی طرف روانہ ہوا۔شاہزادہ عبدالمجید صاحب نے ایران میں قریباً چار سال نہایت خاموشی مگر نہایت مستقل مزاجی کے ساتھ آنریری کام کر کے وہیں ۱۹۲۸ء میں وفات پائی۔مگر دوسرے وفد کو روسی حکومت نے اپنے میں کام کرنے سے روک