سلسلہ احمدیہ — Page 372
۳۷۲ حصہ کو مکمل کیا جائے اور اس حصہ کی تعمیر کے لئے سارا روپیہ بذریعہ چندہ جمع ہو چکا ہے۔اس رسم کے تعلق میں جو اصحاب سنگ بنیا در کھے جانے کے وقت موجود تھے ان میں سفیر جاپان اور جرمنی۔وینڈز ورتھ کا شیرف۔استھو نیا کا وزیر۔اور ترکی اور البانیا کے نمائندے شامل تھے۔اسی طرح ولایت کے قیام کے دوران میں سر فریڈرک ہال ممبر پارلیمنٹ نے اپنے حلقہ انتخاب ڈلچ میں آپ کی ایک تقریر بھی کروائی جس میں بہت لوگ شریک ہوئے اور اس تقریر کو بڑی دلچسپی کے ساتھ سنا گیا اور بہت اچھا اثر ہوا۔غرض آپ کا سفر ولایت ہر جہت سے نہایت مبارک اور از حد کامیاب رہا اور اس کے ذریعہ ولایت میں کا ایسے رنگ میں تعارف ہو گیا کہ جو دوسری کسی صورت میں ممکن نہیں تھا۔چنانچہ اس کے بعد سے ہمارے لندن مشن کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی اور ولایت کے بڑے بڑے لوگ اسے عزت کی نظر سے دیکھنے لگے اور ہمارے دار التبلیغ میں آنے کو ایک گونہ فخر کی بات شمار کرنے لگے۔ولایت سے روانہ ہونے سے قبل حضرت خلیفہ امسیح نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے کو جو اس سفر میں آپ کے ساتھ ہی ولایت تشریف لے گئے تھے اور آپ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے دار تبلیغ لندن کا انچارج مقر فر مایا اور ان کے ہم نام مولوی عبدالرحیم صاحب نیر جو اس وقت لندن مشن کے انچارج تھے اور اس سے پہلے نائیجیریا میں مبلغ رہ چکے تھے حضرت خلیفہ اسیح کے ساتھ ہندوستان واپس آگئے۔الغرض حضور قریباً چار ماہ کی غیر حاضری کے بعد بے نظیر کامیابی اور کامرانی کے ساتھ ہندوستان واپس تشریف لائے جہاں جماعت نے آپ کا ایسا پر جوش اور پر اخلاص استقبال کیا کہ آج تک اس کا تصور دیکھنے والوں کے دلوں میں محبت کی لہر پیدا کر دیتا ہے۔کابل میں ایک اور احمدی کی شہادت:۔ابھی حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح لندن میں ہی تشریف رکھتے تھے کہ افغانستان سے یہ دردناک اطلاع پہنچی کہ امیر امان اللہ خان کے حکم سے کابل ے ڈیلی کرانیکل لندن ۲۰ را کتوبر ۱۹۲۴ء