سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 26

۲۶ شہرت پائے گا۔اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا “ا 66 جب حضرت مسیح موعود اس چالیس روزہ عبادت کو پورا کر چکے تو اس کے بعد آپ ہیں روز مزید ہوشیار پور میں ٹھہرے اور انہی دنوں میں ہوشیار پور کے ایک جوشیلے آریہ ماسٹر مرلی دھر کے ساتھ آ۔آپ کا اسلام اور آریہ مذہب کے اصولوں کے متعلق مناظرہ ہوا جس میں حضرت مسیح موعود کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔مناظرہ کے بعد جلد ہی حضرت مسیح موعود نے ایک تصنیف ”سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع فرمائی جس میں اس مناظرہ کی کیفیت درج کرنے کے علاوہ اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کے بطلان میں نہایت زبردست دلائل درج فرمائے اور اعلان کیا کہ اگر کوئی آریہ اس کتاب کا رد لکھ کر اس کے دلائل کو غلط ثابت کرے تو میں اسے انعام دوں گا مگر کسی کو اس مقابلہ کی جرات نہیں ہوئی۔یہ کتاب ۱۸۸۶ء کے آخر میں شائع ہوئی اور کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔اس کتاب میں معجزات کی حقیقت پر نہایت لطیف بحث ہے اور خصوصاً آنحضرت علی کے شق القمر کے معجزہ پر ایک نہایت لطیف مقالہ درج ہے اور آریہ مذہب کے اصول دربارہ قدامت روح و ماده و غیره کوز بر دست دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔بشیر اول کی ولادت اور وفات اور مخالفوں کا شوروغوغا :۔۱۸۸۷ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے بشیر احمد رکھا۔اس کی ولادت پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا یہی لڑکا وہ پسر موعود ہے جس کی خاص طور پر بشارت دی گئی تھی ؟ آپ نے فرمایا مجھے اس معاملہ میں خدا کی طرف سے کوئی خبر نہیں دی گئی۔پس ممکن ہے کہ یہی وہ لڑکا ہو اور مکن ہے کہ وہ لڑکا بعد میں پیدا ہو۔باوجود آپ کی اس تشریح کے جب یہ لڑ کا قضاء الہی سے ۱۸۸۸ء کے آخر میں فوت ہو گیا تو بعض لوگوں نے اس پر بہت شور مچایا کہ پیشگوئی غلط نکلی اور یہ کہ جس لڑکے کے متعلق اس شدومد کے ساتھ خبر دی گئی تھی وہ صرف چند ماہ زندہ رہ کر فوت ہو گیا۔آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ ا اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۹۶ جدید ایڈیشن