سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 337 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 337

۳۳۷ لوگوں کا قادیان کو چھوڑ نا گو جماعت کے لئے ایک بڑی رحمت ثابت ہوا مگر خود ان کے مفاد کے لحاظ سے یہ ایک خطر ناک غلطی تھی جسے انہوں نے خود بھی بعد میں محسوس کیا۔کیونکہ اول تو اس کے بعد ان کے لئے مرکز میں اڈا جمانے کا موقعہ نہ رہا۔دوسرے چونکہ دنیا کی نظروں میں قادیان ہی کا مرکز تھا اس لئے اپنوں اور بیگانوں کی نظر قادیان ہی کی طرف لگی رہی اور ان لوگوں کے متعلق ہر سمجھنے والے نے یہی سمجھا کہ وہ جماعت کو چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔مگر بہر حال ان کا قادیان سے خود بخود نکل جانا ایک خدائی تصرف تھا جس نے جماعت کے حق میں ایک بھاری ہتھیار کا کام دیا۔اس اختلاف کے دوران میں صدر انجمن احمدیہ کا یہ حال تھا کہ گو اس کے ممبروں میں سے ایک معتد بہ حصہ خلافت کا منکر ہو چکا تھا مگر اب تک بھی ممبروں کی اکثریت خلافت کے حق میں تھی جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہوگا:۔۱ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلافت کے صاحب ۲ نواب محمدعلی خان صاحب حق میں مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب یہ بزرگ شروع میں حضرت خلیفتہ اسیح ثانی امروہوی کی بیعت میں داخل ہوئے مگر بعد میں منکرین خلافت کے بہکانے سے بعض امور میں خلاف ہو گئے۔مگر وفات کے قریب پھر مائل ہو گئے تھے۔" // // ۴ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ۵ | ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب ۶ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی