سلسلہ احمدیہ — Page 336
۳۳۶ اشاعت کے علاوہ جماعت کے اہل علم لوگوں کو ملک کی چاروں اطراف میں پھیلا دیا گیا تا کہ وہ بیرنی جماعتوں کو حالات سمجھا کر اور اختلافی امور کی تشریح کر کے اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم بنا کر خلافت کے ہاتھ پر جمع کرنے کی کوشش کریں اور گوندا کے فضل اور رقم سے جماعت کی کثرت نے ایک غیر معمولی سنبھالا لے کر مرکز کی اپیل پر مخلصانہ لبیک کہا اور حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی بیعت فوراً قبول کر لی مگر چونکہ منکرین خلافت کی طرف سے بھی پر زور پراپیگنڈا جاری تھا اس لئے جماعت کا ایک معتد بہ حصہ ایسا بھی تھا جسے سخت کوشش اور انتہائی جدوجہد کے ساتھ راہ راست پر لانا پڑا۔یہ ایک ہولناک نظارہ تھا اور گویا ایک قسم کی طولانی رسہ کشی تھی جس میں کئی موقعے خطرے کے پیدا ہوتے رہے مگر بالآ خر چپہ چپہ اور بالشت بالشت اور ہاتھ ہاتھ خدائی فوج دشمن کے کیمپ میں دستی چلی گئی اور چند ماہ کی شب وروز کی جنگ کے بعد خدا نے اپنے روحانی خلیفہ کو فتح عطا کی اور جماعت کا زائداز پچانوے فی صدی حصہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا۔یہ دن بڑے عجیب وغریب تھے جس کی یاددیکھنے والوں کو کبھی بھول نہیں سکتی۔ہر مخلص احمدی جوش سے بھرا ہوا تھا اور ہر فرد اپنے علم اور اپنی استعداد کے مطابق تبلیغ کے کام میں دن رات مصروف تھا اور صحیح معنوں میں ایک پوری پوری جنگی کیفیت نظر آتی تھی۔اس عرصہ میں منکرین خلافت نے بھی اپنی جد و جہد کو انتہا تک پہنچا دیا اور اصول کی بحث کے علاوہ ذاتیات کے میدان میں بھی قدم رکھ کر ایسانازیبا پراپیگنڈا کیا کہ جس نے جماعت کی اخلاقی فضا کو وقتی طور پر مکدر کر دیا مگر فرشتوں کی مخفی فوج کے سامنے سب کوششیں بریکار تھیں اور آہستہ آہستہ حریف کا ہر مورچہ مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالتا گیا اور سوائے ایک نہایت قلیل حصہ کے ساری جماعت دامن خلافت کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔دوسری طرف منکرین خلافت کا جو حصہ قادیان میں تھا جس کے ہاتھ میں صدر انجمن احمد یہ کے بعض محکمہ جات کی باگ ڈور تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب طاری کیا کہ وہ قادیان کو چھوڑ کر خود بخو دلاہور چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مرکز سلسلہ کو فتنے کے شراروں سے بہت جلد پاک کر دیا۔ان