سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 326 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 326

٣٢٦ ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگذر کروں گا۔اور میرا اور تمہارا متحدہ کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پیدا کرنا ہے۔۔۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کرے گا۔“ لے اس بیعت اور اس تقریر کے بعد لوگوں کی طبیعتوں میں کامل سکون تھا اور ان کے دل اس طرح تسلی پا کر ٹھنڈے ہو گئے تھے جس طرح کہ ایک گرمی کے موسم کی بارش جھلسی ہوئی زمین کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔روح القدس نے آسمان پر سے ان کے دلوں پر سکینت نازل کی اور خدا کے مسیح کی یہ بات ایک دفعہ پھر پوری ہوئی کہ:۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔‘، ۲ خلیفۃالمسیح دعا اور تقریر کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے شمالی میدان میں قریباً دو ہزار مردوں اور کئی سو عورتوں کے مجمع میں حضرت خلیفہ اول کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر حضور کی معیت میں مخلصین کا یہ بھاری مجمع جس کے ہر متنفس کا دل اس وقت رنج و خوشی کے دہرے جذبات کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت خلیفہ اول کی نعش مبارک کو لے کر بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس مبارک انسان کے مبارک وجود کو ہزاروں دعاؤں کے ساتھ اس کے آقا و محبوب کے پہلو میں سُلا دیا۔اے جانے والے ! تجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام ومطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی۔جا۔اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارکباد کا تحفہ لے اور رضوانِ یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر۔اور اے آنے والے! تجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے الفضل مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۲ ۲ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶