سلسلہ احمدیہ — Page 22
۲۲ حضرت مسیح موعود کی شادی اور مبشر اولاد : جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ حصہ چہارم کی تصنیف سے فارغ ہو چکے اور ماموریت کا اشتہار بھی شائع کیا جا چکا تو ۱۸۸۴ء کے آخر میں آپ نے ایک خدائی بشارت کے ماتحت دہلی کے ایک معز ز سید خاندان میں دوسری شادی کی جو برخلاف آپ کی پہلی شادی کے بہت کامیاب اور نہایت بابرکت ثابت ہوئی اور آپ کا گھر اہلی زندگی کا بہترین نمونہ نظر آنے لگا۔آپ کی اس زوجہ محترمہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے جو خدا کے فضل سے اس وقت تک زندہ ہیں اور اسلامی محاورہ کے مطابق جماعت احمد یہ میں ام المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہلاتی ہیں۔ان کے والد صاحب کا نام میر ناصر نواب تھا جو دہلی کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ میر درد کی نسل میں سے تھے اور نہایت پاک باطن اور صاف گو بزرگ تھے۔اس شادی سے حضرت مسیح موعود کے گھر میں زمانہ وفات کے قریب تک اولاد کا سلسلہ جاری رہا اور آپ نے لکھا ہے کہ میری یہ ساری اولاد کہ جونسل سیدہ ہے خدائی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہوئی ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کی ولادت سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے کسی مبشر الہام کے ذریعہ ان کی پیدائش کی خبر دیتا رہا ہے اور ایک بچہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے آپ کو یہ الہام کیا کہ وہ ایک بہت اعلیٰ مقام کو پہنچے گا اور اس کے ذریعہ سے دنیا میں خدا کے جلال کا ظہور ہوگا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔اس اولاد میں سے جو بچے زندہ رہے ان میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سب سے بڑے ہیں جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے حضرت مسیح موعود کے دوسرے خلیفہ کی حیثیت میں جماعت احمدیہ کے امام اور لیڈر ہیں۔اس جگہ ضمنی طور پر یہ ذکر بے موقعہ نہ ہو گا کہ حضرت مسیح موعود کا تعلق اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد کے ساتھ نہایت درجہ پاکیزہ اور خوشگوار تھا۔میں اس کے لئے کوئی اور الفاظ نہیں پاتا سوائے اس کے کہ اس تعلق میں محبت اور شفقت اور نصیحت کے عناصر نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جسے اعلیٰ درجہ کی بہشتی زندگی کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔میں نے ہزاروں لوگوں کی اہلی