سلسلہ احمدیہ — Page 307
۳۰۷ ر خفیہ خفیہ پراپیگنڈہ کیا جو یقیناً اچھی نیت کی دلیل نہیں ہے۔مندرجہ بالا وجوہات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اصحاب کی نیت صاف نہیں تھی اور یہ ساری کوشش محض اپنے آپ کو طاقت میں لانے یا کسی دوسرے کی ماتحتی سے اپنے آپ کو بچانے کی غرض سے تھی ان کا یہ عذر کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے اور ہم سلسلہ کے اندر جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے ہیں یا تو محض ایک بہانہ تھا اور یا پھر یہ اس بات کی دلیل تھی کہ یہ اصحاب میں منسلک ہو جانے کے باوجود سلسلہ کی اصل غرض و غایت اور اس کے مقصد و منتہی سے بے خبر تھے اور اسے ایک محض دنیوی نظام سمجھ کر دنیا کے سیاسی قانون کے ماتحت لانا چاہتے تھے گو یہ علیحدہ بات ہے کہ دنیا کا سیاسی قانون بھی کلی طور پر جمہوریت کے حق میں نہیں ہے۔پس اس فتنہ کے کھڑا کرنے والوں نے ایک نہایت بھاری ذمہ داری کو اپنے سر پر لیا اور خدا کی برگزیدہ جماعت میں انشقاق وافتراق کا بیج بویا۔اور اپنے نفسوں کو گرانے کی بجائے خدا کی قدیم سنت اور اسلام کے صریح حکم اور حضرت مسیح موعود کی واضح تعلیم کو پس پشت ڈال دیا۔ممکن ہے کہ یہ اصحاب اپنی جگہ اپنی نیت کو اچھا سمجھتے ہوں اور دھوکا خوردہ ہوں اور ہم بھی اس بات کے مدعی نہیں کہ ہم نے ان کا دل چیر کر دیکھا ہے مگر ان ٹھوس حالات میں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں دھوکا خوردہ ہونے کی صورت میں بھی ان کی بدقسمت کا بوجھ کچھ کم نہیں ہے اے کاش وہ ایسانہ کرتے !! جب ان خیالات کا زیادہ چرچا ہونے لگا اور حضرت خلیفہ اسی اول تک سارے حالات پہنچے تو آپ نے جماعت میں ایک فتنہ کا دروازہ کھلتا دیکھ کر اس معاملہ کی طرف فوری توجہ فرمائی اور ۳۱ /جنوری ۱۹۰۹ء بروز اتوار جماعت کے سرکردہ ممبروں کو قادیان میں جمع کر کے مسجد مبارک میں ایک تقریر فرمائی جس میں مسئلہ خلافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال کر جماعت کو بتایا کہ اصل چیز خلافت ہی ہے جو نظام اسلامی کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہے اور حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے بھی خلافت ہی کا ثبوت ملتا ہے اور صدرانجمن احمد یہ ایک عام انتظامی انجمن ہے جسے خلافت کے منصب سے کوئی تعلق نہیں اور پھر یہ کہ خود انجمن بھی اپنی سب سے پہلی قرار داد میں خلافت کا فیصلہ کر چکی