سلسلہ احمدیہ — Page 298
۲۹۸ طرح یہ آسمان اور یہ زمین سارے جہان کے لئے وسیع ہیں اور سب پر حاوی ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ایک عالمگیر انقلاب پیدا ہو گا جس سے دنیا کا کوئی ملک اور دنیا کی کوئی قوم باہر نہیں رہے گی۔یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس وقت اندھی دنیا ہمارے اس دعوی پر ہنستی ہے اور ایک زمانہ تک ہنستی رہے گی مگر مستقبل بتا دے گا کہ خدا کے فضل سے یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔الغرض حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض و غایت اور منتہیٰ یہ ہے کہ تجدید اسلام اور اشاعت اسلام کے کام کو اس رنگ میں مکمل کیا جاوے کہ دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو جاوے اور دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ تہذیب و تمدن کے نام و نشان کو مٹا کر صحیح اسلامی نظام اور صحیح اسلامی تہذیب کو قائم کیا جاوے تا کہ یہ دنیا جواب مردہ روحانیت اور گندی تہذیب کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہی وہ ایک نئی زمین اور نئے آسمان کے نیچے آ کر پھر بہشت کا نمونہ بن جاوے۔دنیا اس دعویٰ پر بے شک جتنی چاہے ہنسی اڑائے اور اس کے رستہ میں جتنی چاہے روکیں ڈالے مگر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا یعنی یہ ایک خدائی تقدیر ہے جو ہر حال میں ہوکر رہے گی۔لے تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۷